گیم شوز کیوں نشر کئے ؟ جسٹس شوکت عزیز صدیقی ساحر لودھی اور عامر لیاقت حسین پر برس پڑے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں رمضان المبارک کے دوران عدالتی احکامات کے باوجود لاٹری شوز نشر کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی
ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کیس کی سماعت کی توعدالتی احخامات کی خلاف ورزی کرنے والے ٹی وی شو ہوسٹ عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی چینلز کو لاٹری شوز نشر کرنے سے منع کیا تھا پھر ہمارے احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی گئی ؟ رمضان پروگرامز میں جو ہوتاہے تو وہ سب معلوم ہے۔ایک اداکارہ (وینا ملک ) نے برہنہ جسم پر آئی ایس آئی کا ٹیٹو بنوایا اسے بھی رمضان نشریات میں دین سکھانے کے لئے بطور مہمان بلایا گیا۔ بول چینل کے مالک شعیب شیخ ،عامر لیاقت حسین، ساحر لودھی اور فہد مصطفی کہاں ہیں؟

عدالت کو بتایا گیا کہ فہد مصطفی پاکستان میں ہی ہیں آ ئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں گے جبکہ بول چینل کے مالک شعیب شیخ عدالتی حکم پر بلا تاخیر عدالت پیش ہو جائیں گے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ رمضان میں متنازعہ اداکاروں کو بلاکر شوز کروائے جاتے ہیں،سب کچھ پیسے کی خاطر کیا جا رہا ہے ،اگرمیڈیا ریٹنگ کم ہوجائے گی تو کیا ہو گا؟ کیا کسی کو پاکستان کی فکر نہیں؟ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ عامرلیاقت حسین کی وجہ سے بڑے بڑے ٹائی ٹینک جیسے جہاز ڈوب گئے انہوں نے میری ذات کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہا جسے نظر انداز کر دیا لیکن احترام رمضان میں کسی کو اجازت نہیں دے گے دین کو اس طرح بیچنے لگ جائیں۔

اس موقع پر ٹی وی ہوسٹ ساحر لودھی عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی بولے ساحرلودھی آپ کو شرم آنی چاہیئے
صبح کے پروگرام میں معصوم بچیوں سے مجرا کرواتے ہو۔آپ لوگوں کو بلاکرہمیں خوشی نہیں ہوتی لیکن اخلاقیات سے کوئی کتنا گرے گا؟ ساحر لودھی نے معزز جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی بہت عزت کرتاہوں کیوں کہ میں بھی آپ کی طرح سچا عاشق رسول ہوں
ذاتی طور پر ایسے فیصلوں کی حمایت کرتاہوں اسی لئے رمضان کے آغاز کیساتھ ہی پروگرام کوختم کردیا تھا ۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی بولے عاشق رسول آپ ہونگے،میں تو محمد مصطفی کے جوتوں کی خاک بھی نہیں۔جسٹس شوکت عزیزصدیقی یہ کہتے ہوئے بھری عدالت میں رو دیئے اور کہا کہ رمضان المبارک کسی بھی معاشرے میں خیرکی علامت سمجھاجاتاہے لیکن ہمارے ہاں ایسا تصور ختم کیا جا رہا ہے۔ساحر لودھی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا نے رات 9بجے کے بعد تفریحی پروگرام کی اجازت دی ہے۔ہم نے تو عدالتی احکامات کے مد نظر متنازعہ اداکاروں کی بجائے پروگرامز میں پی ایچ ڈی سکالرز کو بلایا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آپ لوگ قرآن پروگرام نشر کیوں نہیں کرتے؟عمرے کے ٹکٹ کی لاٹری نکالنا کیوں ضروری ہے ؟حج عمرہ صاحب استطاعت پر فرض ہے ہم حضور اکرم کے پاس لاٹری کاٹکٹ لیکر کس منہ سے جائیں گے ؟

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے میوزک چینلز کے خلاف کاروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ 9xmاور جلوہ نامی میوزک چینلز کے خلاف بحی بڑی شکایات موصول ہوئیں ہیں۔ چھان بین کریں گے کہ ان چینلز کے مالکان کے تانے بانے کہاں سے ملتے ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30مئی تک ملتوی کر دی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین