100 روپے کے ریچارج پر 40 روپے ٹیکس کیسے لیا جا رہا ہے؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے نوٹس لے لیا!

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے عوامی مفاد کےپیش نظر موبائل فون کے ریچارج پر بے تحاشہ ٹیکس کٹوتی کا از خود نوٹس لے لیا.سپریم کورٹ میں اہم مقدمات کی سماعت کے دوران سائلین کی جانب سے چیف جسٹس ثاقب نثار کو اس اہم مسئلے کی نشاندہی کی گئی! چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں موبائل فون کمپنیاں صارفین کو دن رات لوٹ رہی ہیں, 100 روپے کے ریچارج پر 40 روپے تک کی کٹوتی نے موبائل صارفین کو پریشان کر رکھا ہے! چیف جسٹس ثاقب نثار نے اہم معاملے کو عوامی مفاد کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے از خود نوٹس لے لیا! چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ موبائل فون کمپنیاں 100 روپے کے بیلنس پر 40 روپے کا ٹیکس کیسے کاٹ سکتی ہیں؟ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی بتائے کہ کمپنیوں کو اتنے زیادہ ٹیکس لینے کہ اجازت کیوں اور کس قانون کے تحت دی گئی؟ چیف جسٹس نے موبائل فون کمپنیوں اور پی ٹی اے حکام کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئیندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا!واضح رہے کہ پاکستان میں موبائل صارفین سب سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں, 100 روپے کے ریچارج پر 25 روپے کی براہ راست کٹوتی کی جاری ہے جبکہ ہر کال پر ٹیکس الگ سے وصول کیا جا رہا ہے! جس کے بعد ٹیکس کی شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے! آسان لفظوں میں 100 روپے کے کارڈ پر صارفین سیدھے سیدھے 40 روپے موبائل کمپنیوں اور حکومت کو ٹیکس کی مد میں ادا کر رہے ہیں!

چیف جسٹس ثاقب نثار کے اس از خود نوٹس کو عوامی مفاد میں اب تک کا سب سے بہترین نوٹس قرار دیا جا رہا ہے

اب تک کا سب سے اہم از خود نوٹس لے لیا, .سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیس کی سماعت کے دوران ‏چیف جسٹس ثاقب نثار نے موبائل فون کارڈ کے ریچارج پر 35 روپے تک ٹیکس کٹوتی کا از خود نوٹس لیا,

موبائل کمپنیوں اور پی ٹی اے کو نوٹس جاری! 100 روپے پر اتنا ٹیکس کیسے لیا جا رہا ہے؟ چیف جسٹس

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین