مولانا فضل الرحمٰن سیکیورٹی کے حصول کے لیے لکھے خط سے مکر گئے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر ملک بھر میں وی آئی پیز سے اضافی سکیورٹی واپس لینے کے حکم پر عمل درآمد کے نتیجے میں خیبر پختون خواہ حکومت نے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن سے سکیورٹی واپس لے لی۔صورت حال کے پیش نظر20اپریل کو مولانا کی ہدایت پر خیبر پختون خواہ حکومت کو ہنگامی مراسلہ تحریر کرتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظرہٹائی گئی سکیورٹی واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔خبر میڈیا پر نشر ہوئی تو مولانا فضل الرحمٰن سیکیورٹی کے حصول کے لیے لکھے خط سے مکر گئے۔

اسلام آباد سے جاری بیان میں مولانا فضل الرحمن نے سیکورٹی کے حوالے سے لکھے گئے خط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنے سیکیورٹی گارڈز کو برقرار رکھنے یا اسے بڑھانے کی کوئی درخواست کسی کو نہیں دی اور نہ ہی کسی کو ایسی کوئی درخواست دینے کا ارادہ ہے۔حفاظت کرنے والا ایک اللہ کافی ہے اس لئے اضافی سکیورٹی کی ضرورت نہیں۔دوسرے جانب بیس اپریل کو مولانا کے سیکریٹری نے آئی جی کے پی کے کو خط میں سیکیورٹی بحال کرنے کی تحریری درخواست کی تھی۔ سیکریٹری عثمان خالد نے خط کی پہلی سطر میں تحریر کیا تھا کہ اسے یہ خط لکھنے کے لیے حکم دیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا تھا کہ مولانا جے یو آئی ف کے سربراہ ہیں اور ان پر کئی حملے ہو چکے اس لیے انکی سیکیورٹی بحال کی جائے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین