نواز شریف نے ملاقات کے لئے بلایا اور کہا عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کروں۔چوہدری نثار

سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے انکشاف کیا ہے کہ سابق نا اہل وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کا کہا تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے معذرت کر لی۔ دنیا نیوز کے پروگرام’ آن دی فرنٹ میں ‘ اینکر پرسن کامران شاہد کو انٹرویو دیتے ہوئے چوہدری نثار نے اہم انکشافات کرتے ہوئے کئی رازوں سے پردہ اٹھا دیا۔انٹرویو کے دوران چوہدری نثار نے بتایا کہ عمران خان کی جانب سے مسلم لیگ نواز پر برھتے دباو کے پیش نظر میاں نواز شریف نے انہیں ملاقات کے لئے بلا کر عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کا کہا جس پر انکار کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو بتایا کہ عمران خا ن سے 30سال کی دوستی ہے یہ تعلق بگاڑنے میں 30سال لگیں گے ،اس لئے نواز شریف کو بتایا کہ عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس نہیں کر سکتا۔

چوہدری نثار نے بتایا کہ عمران خان سے زمانہ طالب علمی سے دوستی ہے ،عمران خان کرکٹ کھیلتے تھے تو ان سے ملاقات ہو جاتی تھی لیکن اب ساڑھے تین سال سے عمران خان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا مگر پارٹی کے چند افراد نے میاں نواز شریف کے کان بھرے کہ میری اورعمران خان کی دوستی ہے۔چوہدری نثار نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے پارٹی میں شمولیت کی آفر کا احترام کرتا ہوں لیکن اپنی پارٹی سے وفاداری اصولی موقف ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ پارٹی کے موجودہ حالات میں شہبازشریف کا پارٹی صدر بننا نیک شگون ہے،شہبازشریف کٹھ پتلی کی طرح کام نہیں کریں گے،اگر انہیں کام کرنے سے روکا نہ گیا تو کامیاب ہو جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ شہبازشریف پارٹی لیڈرہیں اورمیں انہیں لیڈرمانتاہوں، لیڈر مانتا ہوں ، اگرمریم نواز کوپارٹی لیڈر بنایا گیا تومیں اس کاحصہ نہیں ہوں گا،مریم نوازاورحمزہ شہباز ہمارے بچوں کی طرح ہیں لیکن بڑوں کے ہوتے ہوئے اگر یہ لیڈرہوں گے توخاموشی سے ایک طرف ہوجاؤں گا۔

نواز شریف پر کرپشن کے الزامات سے متعلق پوچھے گئے سوال میں چوہدری نثار نے کہا کہ غیب کاعلم نہیں جانتاکہ نوازشریف نے پیسہ کہاں سے بنایا،یہ بھی معلوم نہیں کہ لندن والے فلیٹ کہاں سے آئے پارٹی میں یہ کلچرنہیں کہ پوچھاجائے پیسہ کہاں سے آیا، پیپلزپارٹی نے90کی دہائی میں سب سے پہلے الزام لگائے اور پھر پرویزمشرف دور میں یہ معاملہ عدالتوں میں گیا۔اب ایک بار پھر عدالت نوازشریف سے پوچھ رہی ہے اوروہ جواب دے رہے ہیں،مریم نواز بھی لندن فلیٹ کاخودجواب دیں۔چوہدری نثار نے کہا کہ پارٹی کا واحدشخص ہوں جس نے اس معاملے پر سپریم کورٹ جانے سے اختلاف کیا تھا،یہ کیس ہم خودسپریم کورٹ میں لیکرگئے ،اب اگر سپریم کورٹ کافیصلہ غلط ہے تواس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ نوازشریف کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات ہیں تو آئینی وقانونی راستہ اپنائیں،مگر اداروں سے تصادم کی پالیسی نہیں ہونی چاہیے، انہوں نے کہا کہ اگر وہ سینیٹرہوتے تون لیگ کے ڈپٹی چیئرمین کوووٹ نہ دیتے کیونکہ ن لیگ نے جسے ڈپٹی چیئرمین نامزدکیا تھا وہ اداروں پرتنقیدکرتے ہیں،چوہدری نثار نے کہا پارٹی کے لوگ نوازشریف کومشورہ دے رہے ہیں کہ جیل جانے سے فائدہ ہوگا لیکن میری رائے میں نوازشریف جیل گئے توانہیں بڑاسیاسی نقصان ہوگا۔

چوہدری نثار نے کہا مسلم لیگ (ن) سے پراناتعلق ہے،34سال کے تعلق میں کئی بار اختلاف رائے ہوا مگر پچھلے 4سال میں جو نوبت پیش آئی پہلے کبھی نہیں آئی ۔میں سمجھتا تھا کہ ن لیگ میں اظہاررائے کی آزادی ہے،مگر موجودہ حکومت آنے کے بعد ن لیگ کے اندرونی ماحول میں تبدیلی آئی ہے،34سال میں جواختلاف رائے کی آزادی تھی وہ اب نہیں ۔چوہدری نثار نے کہا انہوں نے ہمیشہ پارٹی میں غلط چیزوں کی نشاندہی کی مگرابپارٹی میں ایک شخص ایسانہیں رہاجوغلط چیزوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے موقف پر ڈٹ جائے۔

چوہدری نثار نے بتایا کہ نوازشریف شروع میں سیاست سے ناواقف تھے،سب سے پہلے اس وقت نوازشریف کی پنجاب اسمبلی میں حمایت کی جب نوازشریف کوسیاست کااتنا پتانہیں تھا تب میں نے نوازشریف سے کہاکہ پنجاب میں مضبوط گروپ بناناچاہیے اور پھر گروپ بنانے سے نوازشریف کوسیاسی طاقت حاصل ہوئی۔چوہدری نثار نے کہا کہ ملک میں اچھے کام کی قدرنہیں اوربرے کی پکڑ نہیں، انہوں نے نوازشریف سے سوائے عزت کے کبھی کوئی عہدہ نہیں مانگا ، اپنے کسی رشتہ دار کے لئے بھی کبھی کوئی سیٹ نہیں مانگی،میں نے تو خود ان کے دامادکواپنی قومی اسمبلی کی سیٹ دی ،جب تک عزت ملتی رہی حالات ٹھیک رہے لیکن اب ن لیگ میں مشاورت والاماحول نہیں ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین