سپریم کورٹ میں مولانا خادم رضوی سے متعلق خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پیش۔

اسلام آباد (شہباز احمد ) فیض آباد دھرنے سے شہرت حاصل کرنے والے تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہونے لگا۔ مولانا خادم رضوی کون ہے اور اس کے پاس پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ سپریم کورٹ میں خفیہ ایجنسیوں نے اپنی رپورٹ پیش کر دی دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مولانا کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے عدالت پیش کرنے کی حکم دے دیا.انسداد دہشت گردی کے جج ارجمند شاہ نے فیض آباد دھرنے کے دوران توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں پر حملے کے مقدمات کی سماعت کی عدالت کو بتایا گیا کہ مولانا خادم حسین رضوی سمیت 4 ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہیں لیکن بار بار طلبی کے باوجود ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہورہے۔عدالت نے خادم حسین رضوی ، پیر افضل قادری اور دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو ملزمان گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا ، عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر کیس کا حتمی چالان پیش کیا جائے، کیس کی مزید سماعت 4 اپریل کو ہوگی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس میں ملک کی اعلیٰ ترین ایجنسی انٹر سروس انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کی رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کی گئی۔دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارت دفاع کے نمائندوں کی موجودگی میں رپورٹ پڑھنے کے بعد عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے پوچھا کیا آپ آئی ایس آئی کی رپورٹ سے مطمئن ہیں ؟ جوا ب میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا جی ہم مطمئن ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ میں واضح نہیں کیا گیا کہ یہ آدمی کون ہے اور کرتا کیا ہے، آئی ایس آئی کو معلوم نہیں کہ خادم حسین رضوی کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ اتنا پیسا کہاں سے آرہا ہے؟ اور آپ کہے رہے ہیں کہ رپورٹ سے مطمئن ہیں؟

سماعت کے دوران جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو کی طرف سے بتایا گیا عدالت کے سامنے کچھ دستاویزات جمع کرانا چاہتا ہوں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا ان دستاویزات میں کیا ہے ،یہ تو پریس رپورٹ ہے آپ ایسے دکھا رہے ہیں جیسے کوئی خفیہ دستاویزات ہوں۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا خادم حسین رضوی مسجد کے چندے سے چل رہا ہے یا کوئی او ر ذریعہ معاش بھی ہے۔ جس پر وزارت دفاع کے نمائندے نے بتایا کہ خادم حسین رضوی خطیب ہیں۔جسٹس مشیر عالم ریمارکس دیے کہ کیا خطیب کو پیسے ملتے ہیں؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا آئی ایس آئی رپورٹ کے مطابق خادم حسین رضوی معاشی طور پر بد عنوان ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا آپ کو اس کے اکاونٹس تک کا نہیں پتا،مجھے تو فکر ہے ملک کی بڑی ایجنسی کا یہ حال ہے ،ہم کسی صحافی سے پوچھ لیں تواسے آپ سے زیادہ پتا ہوگا۔

 

سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے پوچھا تھا کہ خادم حسین رضویٰ کا ذریعہ معاش بتایا جائے مگر ملک کی سب سے بڑی ایجنسی صرف اتنا بتا سکی کہ خادم حسین رضوی معاشی طور پر کرپٹ ہیں۔دھرنے کے دوران اربوں کی املاک تباہ کردی گئی اور آپ کو مولاناکے اکاوٴنٹس تک کا نہیں پتہ، مجھے تو خوف آنے لگا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ایجنسی کا یہ حال ہے۔وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا خادم رضوی عطیات اکھٹے کرتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا پھر یہ لکھ دیں دوسروں کے پیسوں پر پل رہے ہیں ،ہم نے پہلے بھی کہا تھا خفیہ بریفنگ دینی ہے تو بتادیں ہم انتظام کر دیتے ہیں مگر جو حقائق ہیں وہ سامنے لائیں۔

 

آئی ایس آئی کی 46 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے کی مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی حمایت کی، حمایت کرنے والوں میں شیخ رشید، اعجاز الحق اور تحریک انصاف علما ونگ شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق دھرنے کی حمایت کرنے والوں میں کالم نگار اور ٹی وی اینکرز بھی شامل تھے،6وکلاء اور 3ٹریڈ یونینزنے بھی فیض آباد دھرنے کی حمایت کی جبکہ دھرنے کے شرکاء کو کھانا 92نیوز کے مالک عبدالرشید نے فراہم کیا جن کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔

عدالت نے آئی ایس آئی کی رپورٹ غیرتسلی بخش اور نامکمل قرار دیتے ریمارکس دیئے کہ آئی بی کی رپورٹ میں کچھ خفیہ نہیں بس اخباری خبریں ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے 10روز میں ٹی وی چینلز اور اینکرز کی دھرنے سے متعلق نشریات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین