انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کا ڈر ،پرویز مشرف کا پاکستان واپسی کے لئے وزارت داخلہ سے رابطہ

سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرجنرل (ر)پرویز مشرف کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہونے لگا ، پرویز مشرف کے خلاف کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق صدر کا پاسپورٹ اورشناختی کارڈ معطل کر کے انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لانے کے احکامات جاری کر دیئے ۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف کو سات روز میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا مگر انہوں نے پیش نہ ہو کر مسلسل عدالتی احکامات کی حکم عدولی کی ،خصوصی عدالت نے حکم دیا کہ سابق صدر کی پاکستان میں موجود تمام جائیداد کو ضبط کر کے انہیں پاکستان لانے کے انتظامات کئے جائیں ۔

عدالت نے مزید کہا پرویز مشرف لمبے عرصے سے مفرور ہیں ملزم کی گرفتاری کے لیے پاکستان اور عرب امارات کے درمیان ملزمان کی حوالگی کے معاہدے کو بروئے کار لایا جائے اور ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سمیت دبئی حکام سے رابطہ کیا جائے۔عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کے لئے فیصلے کی کاپی وزارت داخلہ سمیت قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں بھجوادی گئی ہے۔

 

 

دوسری جانب سابق صدر پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ آتے ہی وطن واپس آنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ پرویز مشرف نے عدالت میں پیشی کے لیے حکومت سے سیکیورٹی مانگ لی ہے، اس حوالے سے سابق صدر کے وکیل اختر شاہ ایڈووکیٹ نے وزارت داخلہ اور دفاع میں سیکیورٹی کے لیے درخواست دیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ پرویز مشرف وطن واپس آ کر عدالتوں میں اپنے مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں سخت سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے۔ وزارت داخلہ پرویز مشرف کو وطن واپس آنے اور دبئی واپس جانے کیلئے سکیورٹی فراہم کرے۔

 

وزارت داخلہ کو دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر کو سنگین سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں، موجودہ خراب حالات اور سیکیورٹی کے تحت پرویز مشرف کے لیے پاکستان آنا محفوظ نہیں۔ لہٰذا وطن واپسی کی صورت میں فول پروف سیکیورٹی کی گارنٹی دی جائے ، دوسری جانب وزارت داخلہ اور دفاع کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ پرویز مشرف کی وطن واپسی سے متعلق سکیورٹی کے لئے دی گئی درخواست 13 مارچ کو درخواست موصول ہوگئی ہے۔۔۔ پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر ڈاکٹر امجد نے پرویز مشرف کی واپسی کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز مشرف آئندہ ماہ کے آخر میں وطن واپس آئیں گے جس کے لیے وکلاءسیکیورٹی سے متعلق امور کا جائزہ لے رہے ہیں۔

 

واضح رہے کہ 8 مارچ کو دوران سماعت پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت میں پرویز مشرف کی یقینی حاضری کو فول پروف سکیورٹی سے مشروط کیا تھا جس پر عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کو سیکیورٹی کے لیے وزارت داخلہ کو تحریری درخواست دینے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔وزارت داخلہ کو تحریری درخواست کے بعد وزیر داخلہ احسن اقبال نے پرویز مشرف کی وطن واپسی کی یقین دہانی پر حکومتی اداروں کو ان کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے

 

احسن اقبال کے مطابق پرویزمشرف کے معاملے میں خصوصی عدالت نے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے، ایک ہفتے تک پرویز مشرف نہ آئے تو خصوصی عدالت کے فیصلے پرعمل درآمد شروع کرتے ہوئے ان کی واپسی کے لئے انٹرپول سے رابطہ کریں گے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین