تحریک انصاف کے بڑوں کی طویل بیٹھک میں اہم فیصلے۔

عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کے کور گروپ کا اہم اور طویل ترین اجلاس بڑے فیصلوں کے ساتھ ختم ہوا۔عمران خان نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر لانے کے معاملے پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں اپنا امیدوار لانے کا اعلان کر دیا۔اجلاس کے دوران طویل مشاورت کے بعدسینٹ میں قائد حزب اختلاف کیلئے اعظم سواتی کومتفقہ طور پر نامزد کر تے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کی موجودگی میں تحریک انصاف کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ایوان بالا میں پی ٹی آئی کا موجودہ کردار انتہائی موثر رہا ہے ،اس لئے سینٹ میں قائد حزب اختلاف تحریک انصاف کا حق ہے جبکہ نو منتخب آزاد سینیٹرز کو 22مارچ تک کسی نہ کسی جماعت سے اپنی وابستگی واضح کرنا بھی ضروری ہے ،اس لئے آزاد سینیٹرز کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر کر دیں۔عمران خان نے اجلاس کے دوران کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی قسم کے مک مکا کا حصہ بنے ہیں۔جس طرح چیئر مین سینیٹ کے لئے مسلم لیگ نواز کا مقابلہ کیا اسی طرح اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لئے پیپلز پارٹی کا مقابلہ کروں گا جس کے لئے فاٹا، بلوچستان اور آزاد سینیٹرز سے رابطہ کریں گے۔

اجلاس کے دوران عمران خان نے ممبر سازی مہم ختم ہونے پر 29اپریل سے ملک گیر انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا ۔اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں بڑے جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا آغاز 29اپریل کو لاہور کے جلسے سے ہو گا۔پارٹی رہنماوں کو انتخابی مہم شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں ۔اجلاس کے دوران پنجاب حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومتی اسکینڈلز کو منظر عام پر لانے کا اعلان بھی کیا گیا۔عمران خان نے شفقت محمود کی سربراہی میں قائم تحریک انصاف اینٹی کرپشن سیل کو ہدایات دی ہیں کہ پنجاب حکومت کے منصوبوں میں کرپشن کے بڑے اسکینڈلز کی نشاندہی کرتے ہوئے دستاویز اور شواہد قوم کے سامنے لائے۔

دوسری جانب عمران خان نے پی آئی اے اور اسٹیل مل کی نجکاری کے حوالے سے حکومتی بیانات پر گہری تشویش کااظہار کرے ہوئے کہا کہ پی آئی اے اور اسٹیل مل جیسے اداروں کی نجکاری کسی طور پر قابل قبول نہیں۔ مسلم لیگ نواز ایسے غیر سنجیدہ بیانات دینے کی بجائے تمام توجہ اپنی مدت مکمل کرنے پرصرف کرے۔اسٹیل مل اور پی آئی اے سمیت قومی اداروں کی نجکاری اہم معاملہ ہے اس حوالے سے فیصلہ سازی
آئندہ مینڈیٹ لے کہ آنے والی حکومت کے لئے چھوڑی جائے ۔

عمران خان نے ڈاکٹر عارف علوی کو پی آئی اے اور سٹیل ملز یونینز سے فوری رابطے کی ہدایت کرتے ہوئے حکومت کی اداروں کی نیلامی کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین