سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کس کا ہو گا ؟تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے۔

سینیٹ انتخاب کے دوران پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے بیک ڈور رابطے اورغیر اعلانیہ اتحاد ابھی خبروں کی شہ سرخیوں سے ہٹا نہیں تھا کہ دونوں جماعتیں ایک بار پھر آمنے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یعنی قائد حزب اختلاف کے لئے شیریں رحمن کو نامزد کر دیا۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے قائد حزب اختلاف کی نامزدگی پر تحریک انصاف نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ عمران خان نے پارٹی رہنماوں سے بات چیت کے دوران صورت حال پر ناراضگی اور سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

تحریک انصاف نے موقف اپنایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپوزیشن کے اتحاد کا فائدہ اٹھا کر پہلے ہی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ حاصل کرچکی ہے جبکہ چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی بھی پیپلز پارٹی کے انتہائی قریب مانے جاتے ہیں۔سینیٹ میں تیسرے بڑے عہدے کے لئے بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار کے سامنے لے آنا قابل قبول نہیں،موجودہ صورت حال میں کوئی وجہ نہیں کہ تحریک انصاف کو قائد حزب اختلاف کے عہدے سے محروم کیا جائے۔

 

تحریک انصاف نے صورت حال کے پیش نظر شیری رحمان کے مقابلے میں اپنا امیدوار میدان میں لانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے ،پی ٹی آئی کے قریبی ذرائع کے مطابق پارلیمانی قیادت نے بھی عمران خان کو باضابطہ طور پر اپنے امیدوار کی نامزدگی کا مشورہ دے دیا جس کے بعد سینیٹر اعظم سواتی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لئے نامزد کئے جانے کا امکان ہے۔اس سلسلے میں عمر ان خان نے سینیٹر اعظم سواتی کو مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے سوا تمام جماعتوں سے رابطے کی ہدایت کر دی ہے۔

پی ٹی آئی نے دعوی کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے یکطرفہ اقدام سے حزب اختلاف کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ مزید من مانی کی صورت میں پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا،پی ٹی آئی کے مطابق فاٹا اور بلوچستان کے آزاد اراکین کے علاوہ ایم کیو ایم بھی تحریک انصاف کے امیدوار کو ووٹ دے گی۔اس حوالے سے عمران خان کا خصوصی پیغام وزیر اعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز کو پہنچا دیا گیا جس کے بعد جلد بڑے بریک تھرو کا امکان ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء خورشید شاہ نے موقف اپنایا ہے کہ چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کا انتخاب پی ٹی آئی کی خواہش پر کیا گیا، تحریک انصاف لچک دکھاتی تو سینیٹ چیئر مین پیپلز پارٹی کے امیدوار سلیم مانڈوی والا ہوتے۔انہوں نے مزیدکہا کہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی ہر جماعت کا آئینی حق ہے جسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا ، تحریک انصاف چاہے تو اپنا امیدوار نامزد کر سکتی ہے مگر ہماری جماعت کے پاس زیادہ ووٹ موجود ہیں اس لئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈربھی پیپلز پارٹی سے ہی منتخب ہو گا۔

موجودہ صورت حال کے پیش نظر جہاں دونوں جماعتوں میں ایک بار پھر دوریاں بڑھنے کا امکان ہے وہیں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے آئندہ انتخابات سے قبل ممکنہ اتحاد کی افواہیں بھی دم توڑنے لگی ہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین