خواجہ آصف اورنواز شریف کے بعد عمران خان پر بھی حملے کی کوشش۔

ملکی سیاسی منظر نامہ سینیٹ انتخابات سے ٹھیک قبل ہیجانی کیفیت اختیار کر چکا ہے جس کی بنیادی وجہ سیاستدانون پر ہونے والے حالیہ حملے ہیں جن میں اچانک شدت آ گئی ہے۔وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر خارجہ خواجہ آصف کے بعد اس تشویش ناک صورت حال کا شکار ہونے والوں میں نواز شریف اور عمران خان بھی شامل ہو گئے ۔دونوں رہنماوں کوآج پبلک مقامات پرنشانہ بنانے کی تازہ ترین کوشش کی گئی جس میں دونوں رہنماء محفوظ رہے۔ سابق وزیراعظم شریف لاہور میں دارالعلوم نعیمیہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرنے جیسے ہی اسٹیج پر آئے تو ایک شخص نے ان پر جوتا دے مارا۔جو ان کے کندھے اور کان کو چھوتا ہوا پیچھے جا گرا،نواز شریف اس اچانک حملے اور غیر یقینی صوت حال میں گھبرائے ہوئے نظر آئے مگر اس دوران لیگی کارکنوں نے حملہ آور کو پکڑ کرتشدد کا نشانہ بنا نا شروع کر دیا ۔فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور نے نواز شریف کو جوتا مارتے ہی فاتحانہ انداز میں ہاتھ اوپر کر کے مذہبی نعرے لگانے شروع کر دیئے۔

نواز شریف پر جوتے سے حملے کی خبریں قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں سے اتری نہیں تھیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر بھی مبینہ حملہ کی خبریں موصول ہونے لگیں،تفصیلات سامنے آئین تو معلوم ہوا کہ عمران خان پر فیصل آباد دورے کے دوران مبینہ طور پر حملے کی کوشش کی گئی جسے ان کے بھتیجے احمد خان نیازی نے ناکام بنا دیا ۔مووقع پر موجود پی ٹی آئی کارکنان نے عمران خان کو محفوظ مناتے ہوئے مبینہ حملہ آور کو قابو کرتے ہوئے شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ۔

عمران خان پر حملہ کی کوشش کرنے والے شخص مرازا محمد رمضان نے بتایا کہ وہ مسلم لیگ نواز کا کارکن ہے جسے رانا ثنا اللہ کے ساتھیوں نے عمران خان پر حملہ کا ٹاسک دیا تھا۔مبینہ حملہ آور کے مطابق وہ اپنی دکان میں موجود تھا جب اسے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے دامادنے ٹیلی فون کال کے ذریعے بتایا کہ عمران خان کے ساتھ وہی سب کچھ کرنا ہے جو نواز شریف کے ساتھ ہوا ،جس کے بعد عمران خان کو جوتا مارنے کی منصوبہ بندی بنا کر جناح کالونی پہنچا جہاں عمران خان کو خطاب کے دوران جوتا مارنا چاہتا تھا مگر پی ٹی آئی کارکنان نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔عمران خان صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر خطاب کئے بغیر روانہ ہو گئے۔

اس سے قبل ہفتہ کی شب 9بجے وفاقی وزیر خارجہ اور مسلم لیگ نوازکے اہم رہنماء خواجہ آصف کے چہرے پرایک نوجوان کی جانب سے اس وقت سیاہی پھینک دی گئی تھی جب وہ سیالکوٹ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔حملہ آور کا نام فیض الرسول تھا جس کا تعلق کسی دوسری جماعت سے نہیں بلکہ مسلم لیگ نواز سے ہی تھا جو ختم نبوت میں کی گئی حالیہ ترمیم پر حکمرانوں سے ناراض تھا ۔

خواجہ آصف نے سیاہی پھینکنے والے شخص کو چھوڑنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاہی پھینکنے والے سے میری کوئی ذاتی رنجش نہیں، لگتا ہے مخالفین نے پیسے دے کر یہ کام کرایا، ایسی حرکت کرنے والوں سے ڈرنے والا نہیں میں سپاہی ہوں سیاست میں جنگ لڑتا ہوں، سیاہی پھینکنے سے میری سیاست ختم نہیں ہوگی۔

دوسری جانب عوام اور سیاستدانوں کی جانب سے سیاسی بدمزگی کے حالیہ واقعات کی نہ صرف کھل کر مذمت کی گئی ہے بلکہ ایسے سیاسی کلچر اور روایات کو انتہائی قابل شرم قرار دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایسے عمل پر تنقید کرتے ہوئے شہریوں نے رائے دی ہے کہ سیاسی رنجش میں اس حد تک آگے نکل جانا معاشرے کی پستی کا سبب بن سکتا ہے، کسی کا منہ کالا کرنے کی بجائے اپنے انگوٹھے کو نیلا کریں اور آئندہ انتخابات میں اپنے ووٹ کا درست استعمال کرتے ہوئے ایماندار قیادت کو آگے لائیں۔سوشل میڈیا پر مزید کیا کہا گیا آپ بھی دیکھئے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین