اینکر پرسن ڈاکٹرشاہد مسعود کی عدالت سے معافی، چیف جسٹس نے مسترد کر دی ۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کے بینک اکاونٹس سے متعلق سینئر اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات پر کیس کی سماعت کی ۔سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے شاہد مسعود کو روسٹرم پر بلاتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آ گئی جس میں آپ کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے اب کیا کہیں گے؟اینکر پرسن شاہد مسعود نے جواب دیا کہ معاملہ عدالت میں آنے کے بعد ڈارک ویب سے ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا گیا،چیف جسٹس بولے ڈارک ویب کا معاملہ الگ ہے ہم ملزم عمران کے 37بینک اکاونٹس سے متعلق آپ کے الزامات کی بات کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈاکٹرشاہد مسعود سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لگائے گئے الزامات کا بغور جائزہ لیا ہے،آپ نے نہ صرف سنسنی پھیلائی بلکہ اپنے دعوے کو بار بار دہرایا،آپ نے تو یہ تک بھی کہ دیا کہ اگرخبر غلط نکلی تو فلاں فلاں ادارے مجھے پھانسی پر لٹکا دیں، ہم نے آپ کے پروگرام میں بار بار اعلی عدلیہ سے معاملے کا نوٹس لئے جانے کے مطالبے کے بعد ہی از خود نوٹس لیا تھا مگر آپ کے دعووں میں کوئی حقیقت نہیں نکلی۔

چیف جسٹس کے ریمارکس پر اینکر پرسن شاہد مسعود نے کہا کہ اگرمیرے الزامات اور خبر غلط ہیں تو میں معافی مانگ لیتا ہوں ،اس پر چیف جسٹس جھلا کر بولے شاہد مسعود صاحب آپ نے معافی کا چانس مس کر دیا،اب وقت گزر گیا ،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گا،جو انصاف کریں گے وہ سب کو نظر آئے گا، آپ کو عوامی سطح پر تسلیم کرنا ہو گا کہ آپ کی کہی ہوئی باتیں غلط اور بے بنیاد تھیں۔

ڈاکٹر شاہد مسعود سے چیف جسٹس سے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ تحقیقاتی رپورٹ میں میرے الزامات سے متعلق کیا کہا گیا ہے،چیف جسٹس نے شاہد مسعودکو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحقیقاتی رپورٹ پڑھ لیں اور اگر اس رپورٹ کو چیلنج کرنا چاہیں یا اعتراضات داخل کرنا چاہیں تو وہ بھی آپکا حق ہے، لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ عدالت میں مبالغہ آرائی کرنے پر آپ کو قانونی نتائج ہر حال میں بھگتنے ہوں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی سماعت 12مارچ ک ملتوی کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود کے چینل نیوز ون کو بھی شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔واضح رہے کہ سماعت سے قبل عدالت آمد کے موقع پرڈاکٹر شاہد مسعود نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے تھا کہ وہ کسی صورت عدالت سے معافی نہیں مانگیں گے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین