پرویز خٹک نے ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ارکان کے نام عمران خان کو بتا دیئے۔

ملک کے سب سے بڑے سیاسی ایوان سینیٹ کے انتخابات میں ہونے والی ملکی تاریخ کی بد ترین ہارس ٹریڈنگ میں دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے 15 ارکان صوبائی اسمبلی بھی ملوث نکلے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختون خواہ پرویز خٹک نے پارٹی چیئر مین عمران خان کو سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے بعد ابتدائی رپورٹ پیش کر دی جس کے مطابق پی ٹی آئی کے ایک درجن سے زائد اراکین اسمبلی نے سینیٹ انتخابات میں ضمیر کا سودا کیا۔

عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی 5رکنی ٹیم کا انتہائی اہم اجلاس اسلام آباد میں کپتان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں ہوا جس میں پرویز خٹک،شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور اسد عمر شریک ہوئے ، پارٹی کے5رکنی اس گروپ کا اجلاس صرف رازداری اور حساس معلومات کے تبادلے کے دوران ہی بلایا جاتا ہے ۔اس اجلاس کے دوران پرویز خٹک نے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی ابتدائی انکوائری رپورٹ پیش کرتے ہوئے مشکوک ایم پی ایز کی تفصیلات عمران خان کے سامنے رکھ دیں ۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے 15 ارکان صوبائی اسمبلی نے کروڑوں روپے کے عوض اپنے ووٹ پاکستان پیپلز پارٹی کو فروخت کئے جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے نامزدامیدوار خیال زمان کی نشست سے ہاتھ دھونا پڑا،انتہائی قریبی ذرائع کے مطابق ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ارکان میں زاہد درانی، عبید میر، افتخار مشوانی، عبدالحق، قربان خان، شاہ فیصل، گل شاہد خان، جاوید نسیم، محب اللہ، نگینہ، دینہ ناز، زرین ضیاء ، نرگس خاتون اور یٰسین خیل شامل ہیں۔

 

عمران خان کی ہدایت پر تمام مشکوک ایم پی ایز کے نام گرے لسٹ میں ڈال کر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے،مشکوک ایم پی ایز کی حالیہ دنوں میں ہونے والی سرگرمیوں اور بینک اکاونٹس کی ٹرانزیکشنز کے ریکارڈ سمیت دیگر تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں ،تفصیلات فراہم نہ کرنے والے یا تحقیقات میں تعاون نہ کرنے والے ایم پی اے کا نام گرے لسٹ سے ہتا کر بلیک لسٹ میں ڈالا جائے گا جس کے بعد نہ صرف اے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کیا جائے گا بلکہ ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہونے پر فوجداری مقدمہ بھی چلایا جائے گا۔

عمران خان نے تمام تر اختیارات پرویز خٹک کو تفویض کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے،جبکہ دیگر ارکان کو قومی اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کا طریقہ کار تبدیل کرنے کے لئے آئینی ترمیم سے متعلق نیا بل پیش کرنے کا کہا گیا ہے تا کہ مستقبل میں ایسی صورت ھال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔واجح رہے کہ عمران خان متعدد بار ہارس ٹریڈنگ سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ انتکابات کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں مگر الیکشن کمیشن سمیت کسی ادارے نے اس جانب توجہ نہیں دی۔

 

اجلاس کے دوران عمران خان نے بتایا کہاپنی ہی پارٹی کے اراکین کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے ،سینیٹ کے گزشتہ انتخابات میں ایم پی ایز نے اپنی قیمتیں نہیں لگنے دی تھیں جس پر خوشی سے انہیں بنی گالہ بلا کر کھانے کا اہتمام کیا اور شاباش دی، لیکن اس بار سب سے بڑے ایوان میں ضمیر پر جو سمجھوتہ کیا گیا اس پر دلی افسوس ہے کوشش کریں گے کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آئنی و قانونی طریقے سے معاملہ پر بھرپور آواز اٹھائیں تا کہ یہ نوبت دوباری نہ دیکھنی پڑے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین