چیف جسٹس کادہری شہریت والے نو منتخب سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کا حکم۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں ججز اور سرکاری ملازمین کی دہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں دوہری شہریت رکھنے والے سینیٹرز کا معاملہ اٹھا دیا ۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اطلاعات ملی ہیں کہ دہری شہریت کے حامل6افراد بھی سینیٹرز منتخب ہو گئے ہیں۔اس بات کا تعین نہیں کیا جاسکا کہ دوہری شہریت رکھناجرم ہے یا نہیں لیکن دوہری شہریت رکھنا مفاد کا تصادم ہے،اٹارنی جنرل آف پاکستان اس سلسلے میں ہماری معاونت کریں اور بتائیں کہ وہ کون سے سینیٹرز ہیں جنہوں نے کسی اور ملک کی وفاداری کا بھی حلف اٹھا رکھا ہے۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ بتدائی معلومات کے مطابق چار سینیٹرز کے پاس دہری شہریت ہے،جن میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی بہن سعدیہ عباسی اور پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری سرور سمیت مسلم لیگ ن کے ہارون اختر اور نزہت صادق کے نام شامل ہیں،دہری شہریت والے چاروں سینیٹرزپنجاب سے منتخب ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن حکام کہاں ہیں؟ کیا ان کو علم نہیں کہ دہری شہریت والے ارکان سینیٹرز نہیں بن سکتے ،الیکشن کمیشن کو حکم دیتے ہیں کہ کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے تک دہری شہریت والے سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔معلوم نہیں اب تک کتنے دہری شہریت والے سینیٹرز منتخب ہوگئے، وزیراعظم سیکریٹریٹ میں بھی دوسرے ملکوں سے وفاداری کا حلف اٹھانے والے بیٹھے ہوئے ہیں۔

 

چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے کسی جج کی دہری شہریت نہیں ہے، جو آدمی پکڑا گیا وہ دہری شہریت کے جرم سے تو بچ سکتا ہے لیکن عدالت سے جھوٹ بولنے پراسے نہیں چھوڑیں گے۔ایسے تمام افسران جن کے پاس دہری شہریت ہونے کا شبہ ہے ان کے شناختی کارڈز نمبرز نادرا کو فراہم کریں تا کہ حقائق سامنے آ سکے کہ کتنے افسران کے پاس دہری شہریت ہے ۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے دوہری شہریت کے حوالے سے اٹارنی جنرل آفس کے سپریم کورٹ میں بیان پرشدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چوہدری سرور 2013 میں اپنی برطانوی شہریت ترک کرچکے ہیںاٹارنی جنرل کوسپریم کورٹ میں بیان دینے سے پہلے حقائق کی پڑتال کرنی چاہئے تھی۔برطانوی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی ریکارڈ پر موجود ہے جو اعلی عدلیہ سمیت الیکشن کمیشن میں پیش کر دیا جائے گا۔

عدالتی فیصلے پر رد عمل طاہر کرتے ہوئے ترجمان مسلم لیگ نواز نے دہری شہریت سے متعلق اٹارنی جنرل کے بیان کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کے تینوں سینیٹرز کے پاس صرف اور صرف پاکستان کی شہریت ہے۔ ترجمان مسلم لیگ ن کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بہن سعدیہ عباسی نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے قبل غیرملکی شہریت چھوڑدی تھی۔جبکہ نو منتخب سینیٹرز نزہت صادق پہلے ہی 2012میں امریکی شہریت ترک کر چکی ہیںجس سے پارٹی قیادت مکمل آگاہ ہے۔اسی طرح سینیٹر ہارون اختربھی 2011 میں کینیڈین شہریت چھوڑ چکے ہیں ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین