توہین عدالت کیس, طلال چوہدری نے میڈیا کو ذمہ دار قرار دے دیا

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماء طلال چودھری نے توہین عدالت کے نوٹس پر سپریم کورٹ میں عبوری جواب جمع کروا دیا, طلال چوہدری نے اپنے جمع کروائے گئے جواب میں توہین عدالت کا ملبہ میڈیا چینلز پر ڈالتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ
عدالت کی تضحیک یا توہین کرنے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا،میڈیا نے میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جس پر مجھے توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا گیا

طلال چوہدری نے تحریری جواب میں موقف اپنایا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار خود بھی میڈیا کی غلط رپورٹنگ کا نشانہ بن چکے ہیں , چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں قرار دیا ہے کہ میڈیا بعض معاملات کو سنسنی اور منفی انداز میں پیش کرتا ہے اور یہی سب کچھ میرے ساتھ ہوا.

طلال چوہدری نے اپنے جواب میں مزید کہا کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کے خلاف کس مواد کی بنیاد پر توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوئی, نہ ہی سپریم کورٹ کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں توہین آمیز مواد کی نشاندہی کی گئی, سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ توہین آمیز مواد کی تفصیلات دی جائیں تاکہ اسکے مطابق جواب دے سکوں.

طلال چوہدری نے جواب میں مزید کہا کہ بحیثیت جمہوری ورکر اور رکن اسمبلی ہمیشہ آئین کی بالا دستی پر عمل کیا ہے، کبھی دانستہ اور غیر دانستہ کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس سے عدالت کی توہین ہوئی ہو, یہ بھی جانتا ہوں کہ آئین کا آرٹیکل 204 کے تحت عدالت کی تعظیم لازم ہے، مگر اسی آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو آزادی رائے کا حق دیتا ہے.

طلال چوہدری نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ تحریری جواب کے بعد توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جائے.

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین