عمران خان پی ٹی آئی قیادت سے ناراض،پارٹی ذمہ داران سے بھی گلے شکوے۔

عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اہم ترین اجلاس میں گلے شکوے اور شکایتوں کے انبار لگ گئے،پارٹی ذمہ داران کی مایوس کن کارکردگی پر عمران خان بھی سخت مایوس دکھائی دیئے،کپتان نے پہلی باردل کی باتیں اجلاس میں شریک300سے زائد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سمیت پارٹی عہدیداران کے سامنے رکھ دیں۔ عمران خان نے کہا 22سال بعد آج اپنی پارٹی کو دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ پارٹی کی تیاری کروانے میں کوئی کسر رہ گئی۔کارکنوں کو بار بار سمجھا چکا ہوں کہ آپ روایتی سیاست نہیں بلکہ تبدیلی کی تحریک چلا رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پارٹی ذمہ داران سے بار بار کہتا رہاہوں کہ رکنیت سازی تیز کی جائے لیکن نہیں کی گئی۔بدلے میں لودھراں جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔کارکنان لودھراں میں بہت زیادہ پر اعتماد ہو گئے تھے اور یہی غلطی خیبر پختون خواہ میں بھی دہرائی جا رہی ہے۔عمران خان نے پشاور میں رکنیت سازی مہم پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہ کارکنان لودھراں الیکشن سے سبق سیکھیں اور رکنیت سازی کا عمل ملک بھر میں شروع کریں جس کی نگرانی وہ آج کے بعد خود کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ 28جولائی کو نواز شریف کی نا اہلی کے بعد پارٹی کے ذمہ داران نے سستی کا مظاہرہ کیا ،اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پی ٹی آئی 2018کے انتخابات ہار جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پہلے دھرنہ دیا اور پھر بڑے بڑے جلسے کئے جس سے لوگوں میں شعور آیا مگر بدقسمتی سے عوام اور لوگوں سے میل جول نہیں بڑھا سکے۔تحریک کامیاب بنانے کے لئے دن رات کی محنت چاہیئے جو پی ٹی آئی کارکنان نہیں کر رہے۔

عمران خان نے کارکنوں کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا مقابلہ ایسے مافیا کے ساتھ ہے جس نے اربوں روپے بنا رکھے ہیں اور ابھی تک بنا رہے ہیں ہمارے پاس بہت کم آپشنز باقی ہیں جن پر فوری عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ صوبائی اسمبلی سے لیکر یونین کونسل تک رکنیت سازی کا جال پھیلا دیا جائے۔پورے پاکستان میں کیمپ لگائے جائیں اور پارٹی قیادت ملک کے حصوں میں پھیل جائے ،پارٹی قیادت نکلے گی تو میڈیا آئے گا تو خبربنے گی۔

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف وہی کام کر رہا ہے جو میں اپنے کارکنان کو سمجھا رہا ہوں،نواز شریف باہر نکل رہا ہے اور خبر بن رہی ہے جس کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز لیگ کے پاس بڑے صحافی ہیں جو ن لیگ کے میڈیا سیل کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔جس کے بعد خیبرپختون خواہ پولیس اور بلین ٹری سونامی منصوبے کو سوچی سمجھی سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا۔عمران خان نے کارکنوں سے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں مائنس ہو چکی ہے اور یہی ہم چاہتے تھے لیکن پنجاب میں ن لیگ کے ساتھ ون ٹو ون مقابلہ ہے جس کے لئے فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے پارٹی ذمہ داران سے کہا کہ آپ مخالفین کی منفی باتوں کا جواب نہ دیں۔منفی رد عمل کا جواب مثبت انداز میں دیں اور اپنے کام سے توجہ نہ ہٹنے دیں پھر ن لیگ آپ پر مزید حملے کرے تو سمجھ جائیں کہ آپ درست سمت میں جا رہے ہیں اور یہی سب میرے ساتھ بھی ہو رہا ہے،میری ذات پر دن رات حملوں کے بعد بھی حوصلہ نہیں ہارا تو سابقہ بیوی اور بچوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے پارٹی ذمہ داران سے کہا کہ روایتی سیاست کو چھوڑ کر تبدیلی کی تحریک کے لئے خود کو متحرک کریں اورمیرا یہ پیغام پارٹی کے ہر کارکن تک پہنچا دیا جائے۔

وزیر اعلی خیبر پختون خواہ پرویز خٹک بھی عمران خان کے ہم آواز بن گئے ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے جلاس پارٹی رہنماوٴں پر پھٹ پڑے،
پرویز خٹک نے موجودہ پارٹی پالیسی کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا عمران خان بڑے بڑے جلسے کر لیتا ہے لیکن پھر ان جلسوں کوکوئی نہیں سنبھالتا،پی ٹی آئی قیادت بھی حلقوں میں لوگوں کے مسائل حل نہیں کرتی، پرویز خٹک بولے عمران خان لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے اور پارٹی رہنما لوگوں کو بکھیر دیتے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماوٴں کو علاقائی سیاست کے محرکات کا علم ہی نہیں۔

پرویز خٹک مزید بولے کہ عمران خان کے علاوہ کوئی بھی رہنماء لوگوں کو پارٹی میں شامل نہیں کر رہا۔ پارٹی کا مقابلہ پنجاب میں ن لیگ، سندھ میں پی پی پی سے ہے اور ان دونوں جماعتوں عوام میں اپنی جڑیں پھیلا چکی ہیں مگر اس ساری صورت حال میں پی ٹی آئی میں چند لوگوں کے سوا کسی کو محنت کرتے نہیں دیکھا۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کارکنان پی ٹی آئی اور عمران خان کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو عمران خان کی کہی باتوں پر فوری عمل ناگزیر ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین