لودھراں کا نتیجہ آیا تو موبائل دیکھ کر حیران رہ گیا،عمران خان۔

سربراہ تحریک انصاف عمران خان لودھراں کے ضمنی انتخاب میں شکست کے بعد منظر عام پر آگئے ،اسلام آباد میں سرگودھا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات لودھراں کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ آنے کے بعد اپنا موبائل فون دیکھ کر حیران ہو گیا۔سوشل میڈیا پر جذباتی پی ٹی آئی کارکنان نے رونا دھونا لگا رکھا تھا۔دل میں سوچا کہ ایک بچہ پہلی بار الیکشن لر کر91000ووٹ لے گیا مگر بیچارے کارکنان نے انتخاب ہارنے پر ہر طرف رونا دھونا لگا یاہوا ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔

عمران خان نے کہا جتنا میں ہارا ہوں اتنا شاید ہی کوئی دنیا میں ہارا ہو،میں 21سال تک ہار جیت کا سامنا کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ
جو ہار کو نہیں سنبھال سکتا وہ جیتنا نہیں سیکھ سکتا اورجو ہار سے ڈر جاتا ہے وہ نواز شریف بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے سیاست کا آغاز ہی ہارنے سے کیا تھا،20سال سے ہار رہا ہوں ،15سال میں صرف ایک سیٹ جیت پایا مگر حوصلہ نہیں ہارا، کل رات سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنان کا برا حال دیکھا، کارکنان لکھ رہے تھے ،ہار گئے ،لٹ گئے مارے گئے ،یہ سب دیکھ کر لگ رہا تھا میں شائد کسی اور ملک کا الیکشن دیکھ رہا تھا۔

عمران کان نے کہا کہ کل رات ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اب آگے کیا کرنا ہے۔رات کو ایک منصوبہ بنایا ہے جس کے لئے 300نوجوانوں کی ضرورت ہے جنہیں بنی گالہ بلا کر خود ٹریننگ دوں گا۔اگر منصوبہ کامیاب ہو گیا تولکھ کر دے سکتا ہوں کہ 2018کے انتخابات میں لودھراں جیسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔اس دوران ایک کارکن نے جذبات میںآ کر عمران خان کو ’آئی لو یو‘ کی صدا لگائی تو کپتان بولے نواز شریف والا ڈائیلاگ مت کہو،نواز شریف تو بالکل ہل گیا ہے پتہ نہیں کیوں جلسے میں جا کر آئی لو یو بولتا رہتا ہے

عمران خان نے کہا فخر ہے کہ پاکستان کی عدالت نے انہیں صادق اور امین قرار دیا ، جس کے لئے نواز شریف اور حنیف عباسی کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھ پر کیس کر کے مجھے صادق اور امین ہونے کا سرٹیفکیٹ دلوا دیا۔قوم کی امیدوں پر پورا اترنا چاہتا ہوں، پاکستان پر اس وقت تاریخی قرضے چڑھ چکے ہیں ملک چلانے کے لئے پیسہ ختم ہو چکا ہے،حالات ایسے ہی رہے تو پاکستان کو ہنگامی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

ورکرز کنونشن سے خطاب کے اختتامی لمحات پرکپتان نے کارکنان سے کہا اب 2018کے انتخابات کی تیاری کا وقت ہے ،آپسی اختلافات ایک طرف رکھ کر ملک و قوم کی ترقی کے لئے سوچیں،اسے اپنا لیڈر مانیں جو قائداعظم کی طرح پاکستان کے لئے ڈٹ جائے ،ایسے لیڈر سے بچیں جو دنیا میں جا کر کہے مجھے کیوں نکالا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین