احتساب کے نام پرانتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔نواز شریف

سابق نا اہل وزیراعظم نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز اور لیگی رہنماوں کے ہمراہ احتساب عدالت پہنچے تو سماعت بغیر کسی عدالتی کاروائی کے ملتوی ہوگئی۔نواز شریف عدالت سے باہر نکلتے ہی میڈیا نمائندوں نے کے قریب جا پہنچے۔صحافی نے سوال کیا ’میاں صاحب کل لودھراں میں شیر دھاڑا ہے کیا کہیں گے‘ جواب میں نواز شریف بولے لودھراں میں ضمنی انتخاب کا نتیجہ میرے ساتھ انتقام کے نام پر ہونے والے احتساب پر عوامی رد عمل ہے۔میرا مقدمہ اب میں نہیں پاکستان کی عوام لڑ رہے ہیں جس پر ان کا شکر گزار ہوں ۔نواز شریف نے کہا کہ احتساب کرنے والوں کا سارا زورپاکستان کی خدمت کرنے والوں پر چلتا ہے، آج سب سے بڑے مجرم ہم بنے ہوئے ہیں جنہوں نے دو دو مرتبہ آئین توڑاججز کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا انہیں ملک سے باہر بھگا دیا گیا کیا احتساب کرنے والوں کے ان تک پہنچتے ہوئے پر جلتے ہیں، دو بار آئین توڑنے اور ججز کو گرفتار کرنے والے کس کے مجرم ہیں؟

 

چوہدری نثار اور مسلم لیگ نواز کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی سے متعلق صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ راولپنڈی کے ایک ایم این اے (چوہدری نثار) آپ پر اور آپ کی بیٹی مریم نواز پر تنقید کر رہے ہیں کیا آپ بطور پارٹی صدر اس پر کوئی ایکشن لیں گے، جس پر نواز شریف اور ان کے ہمراہ کھڑی مریم نواز جواب دینے کی بجائے مسکراتے رہے،صحافی نے کہا آج کھل کر بتا دیں، نواز شریف بولے کوئی اور سوال ہے تو کر لیں

صحافی نے سوال کیا کہ آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ آپ کو انتقام کا نشانہ بنایا جا جا رہا ہے؟ نواز شریف بولے نہیں معلوم میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے، بس یہ جانتا ہوں کہ احتساب کے نام پر مجھ سے انتقام لیا جا رہا،مجھ پر جھوٹے مقدمات اور ضمنی ریفرنسز بنائے جا رہے ہیں،میں ڈرتا نہیں ہوں ان کو مقابلہ کر رہا ہوں لیکن یہ دہرے معیار کہاں تک چلیں گے،اب سیاسی لیڈروں کو بھی خیال کرنا چاہیے کہ ملک کو کہاں لے کر جانا ہے۔

 

شریف خاندان کے خلاف کیس کی سماعت 15فروری تک ملتوی کر دی گئی۔جبکہ نواز شریف نے اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کے باعث برطانیہ روانگی کیلئے عدالت کو حاضری سے استثنی کی درخواست بھی جمع کروا دی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین