اسحاق ڈار کی دو نمبری پکڑی گئی۔

پنجاب میں سینیٹ کی 12نشستوں پر جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اہم اجلاس میں مسلم لیگ نواز کی جعل سازی پکڑی گئی۔ملک سے مفرور سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی میں ان کے دستخط جعلی نکلے جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے۔الیکشن کمیشن ارکان نے موقف اپنایا کہ کاغذات نامزدگی میں اسحق ڈار کے جمع کروائے گئے حلف نامے پر ان کے اپنے دستخط موجود نہیں۔الیکشن کمیشنر پنجاب کے مطابق جمع کروائے گئے کاغذات پر جعلی دستخط کئے گئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے اسحق ڈار کونیب کی جانب سے اشتہاری قرار دیئے جانے کی بنا پر پہلے ہی ان کے کاغذات نامزدگی چیلنج کر رکھے تھے۔دوسری جانب اسحق ڈار کے وکلاءکے مطابق کاغذات نامزدگی پر دستخط اسحق ڈار کے ہی ہیں جو برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کی موجودگی میں کروائے گئے تھے جسے الیکشن کمیشن نے ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کے وقت اسحق ڈار نے مسودے پر جو دستخط کئے وہ کاغذات نامزدگی پر کئے گئے دستخطوں سے مماثلت نہیں رکھتے جبکہ قومی شناختی کارڈ پر موجود دستخط بھی یکسر مختلف ہیں

وکلاءکے تفصیلی دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے اسحق ڈار کے کاغذات نامزدگی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے مسترد کر دیا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین