سینیٹ کی نشست کے لئے مجھے 40کروڑ روپے کی آفر کی گئی، عمران خان

سربراہ تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آبادمیں پی ٹی آئی کی کوریج کرنے والے صحافیوں سے ملاقات کے دوران رازو نیاز کی سب باتیں بتا دیں۔ ملک کا سب سے اچھا فوجی جرنیل کون ہے؟ سب سے اچھا سیاسی رہنماءاور سب سے برا سیاستدان کسے سمجھتے ہیں؟ خیبر پختون خواہ میں تبدیلی آئی مگر نظر کیوں نہیں آ رہی؟ سینیٹ کی ایک سیٹ کے لئے 40 کروڑ روپے کی آفر کس نے کی؟ کراچی میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ جمائمہ کے بعد بچوں سے متعلق سوشل میڈیاپر جھوٹا پراپیگنڈہ کس کی ایماءپرکیا جا رہا ہے؟ یہ سب کچھ اور بہت سی باتیں عمران خان نے اسلام آباد کے صحافیوں کے سامنے رکھ دیں لیکن اسے چھاپنے یا نشر کرنے کی اجازت نہیں دی۔

بات چیت کے دوسرے حصے میں عمران خان نے اپنی گفتگو میڈیا میں رپورٹ کرنے کی اجازت دی تو نیوز ون کے صحافی کاشف رفیق نے عمران خان سے سوال کیا کہ مولانا سمیع الحق کو سینیٹر بنوانے میں پی ٹی آئی کا کیا کردار ہے؟ جواب میں عمران خان نے بتایا کہ مولانا سمیع الحق ان کے اتحادی ہیں مگر پی ٹی آئی کی ترجیح وہی چھ لوگ ہیں جنہیں وہ نامزد کر چکے ہیں۔اگر پی ٹی آئی کے پاس اضافی ووٹ ہوئے تو مولانا کو دیئے جا سکتے ہیں۔عمران خان نے اس دوران انکشاف کیا کہ سینیٹ کی نشستوں کے لئے پیسہ چل رہا ہے اورلوگوں کی قیمتیں لگ رہی ہیں اس سلسلے میں انہیں خود سینیٹ کی ایک نشست کیلئے چالیس کروڑروپے کی آفر ہوئی ہے ۔تاہم اصرار کے باوجود عمران خان نے آفر دینے والے شخص کا نام صیغہ راز میں ہی رکھا۔

آج نیوز کے رپورٹر آصف نوید نے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی مسلم لیگ ن سے بڑھتی رنجشوںسے متعلق سوال کیا گیا تو عمران خان نے لمبی سانس لی اور کہاچوہدری نثار کا موقف درست ہے مریم نواز اور چوہدری نثار کا کوئی موازنہ نہیں،ساتھ ہی انہیں پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے کپتان نے کہا کہ چوہدری نثار پی ٹی آئی میں آجائیں تواچھا ہے۔اے آر وائی نیوز کے رپورٹر عبدالقادر نے سوال کیا کہ آپ تو دھرنے کے دوران شیلنگ کروائے جانے کی وجہ سے چوہدری نثار سے ناراض ہیں کیا اسے بھولنے کو تیار ہیں؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ کبھی کبھی دل بڑا کرنا پڑتا ہے۔اگر وہ پارٹی میں آنا چاہیں تو خوش آمدید کروں گا۔

92نیوز کے صحافی ٹکا ثانی نے سوال کیا کہ کیا پھر آصف زرداری اور نواز شریف کے لئے بھی دل بڑا کرسکتے ہیں؟ جواب میں کپتان بولے ایک شرط پرزرداری،نوازشریف کی توبہ قبول کرنے کوتیارہوں اگر دونوں پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لے آئیں جس پر خوب قہقے لگے۔ڈان نیوز کے صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا جس ٹی وی چینل سے بائیکاٹ چل رہا ہے آپ کی شادی کی خبریں بھی اسی چینل سے بریک ہوئی جس پر عمران خان نے کہا کہ جیو کو شادی کی خبریں انٹیلی جنس بیوروکے سربراہ نے دیں جس کو ایک بار پھر پرموشن مل رہی ہے۔

دنیا نیوز سے وابستہ سینئر صحافی عابد ملک نے سوال کیا کہ نواز شریف کی نا اہلی کے معاملے پر آپ کا موقف انتہائی سخت مگر جہانگیر ترین کے معاملے میں معاملے میں یکسر مختلف کیوں؟ موروثی سیاست کے خاتمہ کا دعوی کرنے والے عمران خان نے جہانگیر ترین کی جگہ ان کے بیٹے کو ٹکٹ کس حیثیت میں دیا؟ جواب میں عمران خان نے کہا نواز شریف کرپشن کرنے پر نا اہل ہوئے جبکہ جہانگیر ترین صرف ایک ٹرسٹ ڈیڈ کی غلط تشریح پر ،جہانگیر ترین کی جگہ ان کے بیٹے کو سیکرٹری جنرل نہیں بنایا بلکہ انہیں حلقے میں مقبولیت کی بنیاد پر ٹکٹ دیا گیا۔ساتھ ہی عمران خان نے واضح کیا کہ جہانگیر ترین کے معاملے پر عدالتی فیصلہ سخت تھا مگر اسے تسلیم کر کے مجھے کیوں نکالا کی رٹ نہیں لگائی۔

جاگ نیوز سے وابستہ نوجوان صحافی رضوان غلزئی نے سوال کیا کہ خیبر پختون میں تبدیلی آئی ہے مگر دکھائی نہیں دے رہی، صوبے بھر میں کی جانے والی اصلاحات کی تشہیر نہیں کی گئی جس کی وجہ سے عام آدمی سمجھنے سے قاصر ہے کہ خیبرپختون خواہ میں تبدیلی کس بلا کا نام ہے۔عمران خان نے کہا کہ اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی کی میڈیا پالیسی کمزور ہے ،لیکن پنجاب حکومت کی طرح کروڑوں روپیہ اشتہارات پر نہیں لگا سکتے۔

ایکسپریس نیوز سے وابستہ سینئر صحافی سہیل چوہدری نے خواجہ آصف نا اہلی کیس سے متعلق سوال پوچھا تو عمران خان بولے خواجہ آصف کے بیرون ملک اکاونٹس اور اثاثے پکڑے گئے ہیں، ان کی اہلیہ کے غیر ملکی اکاونٹس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے،خواجہ آصف نا اہلی کیس ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے مگر ججز ایک ایک ماہ کی تاریخیں دے رہے ہیں،کیا ججز کو نظر نہیں آ رہا کہ ملک کا کروڑوں روپیہ لوٹ لوٹ کر باہر لے جایا جا رہا ہے؟ عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ نا اہلی کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔

جیو نیوز کے صحافی ایاز اکبر یوسفزئی نے سوال کرنا چاہا تو ڈان کے صحافی نے لقمہ دیا یہ جیو سے ہے۔جس پر عمران خان نے سوال سے قبل ہی میر شکیل جنگ اور جیو پر نواز شریف سے پیسہ لے کر ان کی کردار کشی کا الزام دہرایا اور واضح کیا کہ پی ٹی آئی صحافیوں کے خلاف نہیں ایاز اکبر یوسفزئی جیسے صحافیوں کے لئے پی ٹی آئی غیر جانبدار رہے گی تاہم ان کی اصل جنگ میڈیا گاڈفادر سے ہے جو جاری رہے گی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین