24گھنٹوں میں جاتی امراءسے رکاوٹیں ہٹادی جائیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے لاہور میں نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی امراء، وزیر اعلی ہاوس،گورنر ہاوس اور ماڈل ٹاون میں لگائی گئی رکاوٹیں فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں سکیورٹی کے نام پر سڑکوں کی بندش پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار نے لاہور کی مختلف سڑکوں پر رکاوٹیں لگانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے24گھنٹے میں تمام سڑکیں کھولنے کا حکم دے دیا۔

سماعت کے موقع پر وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، صوبائی وزراءاور بیوروکریسی کے اعلی افسران بھی موجود تھے۔ایڈیشنل ہوم سیکرٹری بولے کہ رکاوٹیں سکیورٹی خدشات اور دھمکیاں ملنے کی وجہ سے لگائی گئیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا مجھے دھمکیاں نہیں ملتیں، کیا میں بھی اپنے گھر کے باہر رکاوٹیں کھڑی کر لوں؟وزیراعلیٰ کو ڈرا دھمکا کر گھر میں نہ بٹھائیں اپنی فورسز کو الرٹ کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ عوامی آدمی ہیں اور انہیں کہنا چاہیے شہباز شریف کسی سے نہیں ڈرتا،اس موقع پر چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب سے استفسار کیا کہ کیوں وزیراعلیٰ صاحب ہم ٹھیک کر رہے ہیں؟ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ ٹھیک کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی طرح آپ نے بھی عدالت آکر اچھی روایت قائم کی، ہم آپ کے مشکور ہیں،ایسے معاملات کا مقصد سیاست کرنا نہیں، عدلیہ اور انتظامیہ مل کر عوامی حقوق کا تحفظ کرے گی۔آپ عوام کو سکیورٹی ضرور دیں مگر عوام کو تکلیف کی اجازت نہیں دے سکتے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ہوم سیکرٹری پنجاب حلف نامہ دیں کہ جاتی امراء، گورنر ہاوس، وزیراعلی کیمپ ،آئی جی دفاتر ،ماڈل ٹاو¿ن، جامعہ قادسیہ، حافظ سعید کی رہائشگاہ، چوبرجی اور ایوان عدل سے آج رات تک رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی۔سماعت کے دوران صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود نے پہلے اٹارنی جنرل پنجاب کے کان میں کچھ کہا پھر بلا اجازت روسٹرم پر آگئے جس پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ کےساتھ آنے والے وزراءسن لیں عدالت میں پھرتیاں نہ دکھائی جائیں۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلی حکام کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔وزیر اعلیپنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے اپنے بیانات میںعدالتی فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی یقین دہانی کروائی ہے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین