چیف جسٹس ثاقب نثار کا جوڈیشل ایکٹوزم

اسلام آباد (رضوان غلزئی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا ’جوڈیشل ایکٹوزم‘ شاید ان لوگوں کے لیے تو وجہ تنقید ضرور ہو سکتا ہے جو اے سی اور ہیٹر والی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، بیک اپ جنریٹرز والے گھروں میں رہتے ہیں، جن کے بچے امپورٹڈ دودھ پیتے ہیں، جن کو نوکری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی یا لاکھوں میں تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔۔ لیکن جسٹس ثاقب نثار کا یہ جوڈیشل ایکٹوازم غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو پاکستانی دودھ نما وائٹنر پلانے پر مجبور والدین ، اسپتالوں میں علاج کے لیے قرض لے کر لاکھوں روپے اسٹنٹس ڈلوا کر بھی صحت یاب نہ ہونے والے مرد و خواتین اور کیپیٹل ٹی وی، سچ ٹی وی، روز ٹی وی یا سیون نیوز کے اس صحافی کے لیے امید کی کرن ضرور ہیں جن کو نورپور اور میلاک جیسے غیر معیاری دودھ اپنے بچوں کو پلانے پڑے ہیں صرف اس وجہ سے کہ وہ سستے مل جاتے ہیں، جس کو چینل کا مالک تنخواہ نہیں ادا کرتا اور وہ آٹھ آٹھ گھنٹے چینل میں کام کرکے بچوں کی فیسیں جمع کرانے کے لیے کبھی قرض لیتے ہیں تو کبھی نوکری کے بعدکوئی چھوٹا موٹا کاروبار یا کریم اور اوبر چلانے پر مجبور ہوتے ہیں۔

جو لوگ نوازشریف کی محبت میں چیف جسٹس کے ایکٹوازم پر تنقید کررہے ہیں وہ انہی لوگوں کا ہی خیال کریں کہ جو پاکستان میں ہر طرف مختلف مافیا کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ میڈیا مالکان پر سیاستدان اس لیے ہاتھ ڈالنے سے ڈرتے تھے کہ اسکا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو جیواور جنگ گروپ عمران خان کے ساتھ کر رہا ہے۔اس ملک کے بڑے شہریوں کے ٹیکس کے پیسے چوری کرکے ملک سے باہر لے جاتے ہیں اور ملک چلانے کے لیے قرضہ لینا پڑتا ہے اور قرضے کی قسطیں دینے کے لیے اسی ملک کے باسیوں پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا جاتا ہے، اسی چیف جسٹس نے ایسے لوگوں کی بیرون ملک دولت کا ریکارڈ بھی منگوا لیا ہے۔

لوگوں کو تحفظ دینے والی چاروں صوبوں کی پولیس کے آئی جیز سپریم کورٹ کے دباو میں جلد کیسز نمٹا رہے ہیں۔ غریب لوگوں کی زمنیوں پر قبضے کرکے ہاوسنگ سوسائٹیاں بنانے والے ٹائکونز بھی عدالت میں جوابدہ ہیں۔ایک شخص جس نے پورے ملک میں ہر جماعت، ہر ادارے (سوائے ایک کے) ہر مافیا کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے تو یہ عام لوگوں کے لیے امید کی کرن ضرور ہے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین