چیف جسٹس نے بیرون ملک بینکوں میں پاکستانیوں کی رقوم کا نوٹس لے لیا

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اب تک کا اہم ترین از خود نوٹس لے لیا۔ سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا خبریں آ رہی ہیں کہ بااختیار لوگ ملک کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں،یہ سب ہو رہا ہے تو بہت خطرناک ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔چیف جسٹس نے اسٹیٹ بینک،ایف بی آر وزارت خزانہ اور ایس ای سی پی سے سوئس بینکوں میں جمع کروائی گئی رقوم سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس نے تمام انٹیلی جنس ایجنسیوںآ ئی بی، آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے کو بھی متعلقہ معلومات عدالت کو فراہم کرنے کا حکم دیے دیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت ازخود نوٹس لے رہے ہیں وزارت خارجہ اور اسیٹیٹ بینک ملک کی لوٹی گئی رقم واپس لانے سے متعلق دیگر ملکوں سے ہونے والی مفاہمت کی یاداشتیں اور معاہدوں کی تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کرے۔

واضح رہے کہ کچھ پاکستانی سیاستدانوں اور سرمایہ کاروں کی خطیر رقم سوئس بینکوں میں موجود ہے جسے پاکستان لانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ سوئس بینکوں میں سب سے زیادہ رقم آصف علی زرداری کی ہے جسے پاکستان لانے کے لئے شہباز شریف انتخابی جلسوں میں اکثر نعرے لگاتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ چیف جسٹس کے اس از خود نوٹس کو عوامی مفاد میں اب تک کا سب سے اہم نوٹس قرار دیا جا رہا ہے۔اس نوٹس کے تحت بیرون ملک بینکوں میں موجود پیسہ پاکستان آ گیا تو یہ عدلیہ کی ایک بڑی کامیابی ہو گی۔

 

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین