نہال ہاشمی نا اہل قرار، سپریم کورٹ نے جیل بھجوا دیا !

سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین عدالت کیس میں ن لیگ کے سینیٹر نہال ہاشمی کو سزا سنا دی ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نہال ہاشمی کوایک ماہ قید، پچاس ہزار روپے جرمانہ اور پانچ سال نااہلی کی سزا سنا دی،جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید ایک ماہ جیل کاٹنی ہو گی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پولیس نے نہال ہاشمی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیا ہے۔نہال ہاشمی نے 28 مئی کو تقریر میں پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں اور جے آئی ٹی ممبران کیخلاف توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں جس پر سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کی تقریر پر31 مئی کو ازخود نوٹس لیا تھا۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے بعد 24 جنوری کو نہال ہاشمی توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا،۔عدالت نے نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید کی سزا سناتے ہوئے ان کا معافی نامہ مسترد کردیا،ساتھ ہی 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے 5 سال کے لیے نا اہل بھی قرار دے دیا۔نہال ہاشمی نے عدالتی حکم پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے سپریم کورٹ میں موقع پر موجود وکلاء سے مدد لے لی گئی ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین