زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کا اعترافی بیان منظرعام پرآگیا

زینب سمیت 8 کمسن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے عمران کے اعترافی بیان کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔ملزم عمران نے دوران تفتیش قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ زینب کو والدین سے ملوانے کے بہانے ساتھ لیکرگیا، راستے میں بچی نے پوچھا کہ کہاں لے جا رہے تو تو اس سے کہا راستہ بھول گئے ہیں دوسری طرف سے لے جا کر والدین سے ملواؤں گا۔ملزم عمران نے اعتراف کیا کہ زینب کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف اس سے زیادتی کی بلکہ اسے قتل بھی کر دیا۔

اس سے قبل ملزم عمران کے ڈی این اے رپورٹ سے ثابت ہوا ہے کہ وہ 8بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنا چکا ہے۔تفتیشی افسر کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق ان آٹھ بچیوں میں عاصمہ کو 23 جون 2015 کو صدر قصور کے علاقے میں زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا،تہمینہ کو 4 مئی 2016 اور عائشہ آصف 8 جون 2017 کو قتل کیا گیا ۔ 24 فروری 2017 کو قتل ہونے والی ننھی بچی ایمان فاطمہ کے ساتھ بھی ملزم عمران کا ڈی این اے میچ کر گیا ، جبکہ 11 اپریل 2017 کو معصوم نور فاطمہ کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ۔ 8 جولائی 2017 کو ننھی لائبہ کو زیادتی کو ہوس کا نشانہ کر قتل کیا گیا جبکہ 12 نومبر 2017 کو معصوم کائنات بتول کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ اب تک کومہ کی حالت میں ہے . درندہ صفت شخص نے 4 جنوری 2018 کو ننھی کلی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا ۔رپورٹ کے مطابق آٹھوں وارداتوں میں عمران ملوث ہے اور ڈی این اے سے ثابت ہو گیا کہ وہ سیریل کلر ہے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین