زینب قتل کیس میں ٹی وی اینکرز کا کردار

اسلام آباد (زبیر علی خان جاگ ٹی وی) جس معاشرے میں زینب جیسی ننھی کلی کے قاتل ریپسٹ اور اغوا کار موجود ہوں وہاں کچھ خود ساختہ والدین ایسے بھی ہیں جو کہ انسانیت سوز واقعہ پر بھی اپنی اداکاری کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں کہ دیکھنے والے بھی دنگ رہ جائیں، اپنی ممتا کو اسکرین پر بیچنا کوئی ان سے سیکھے،،، جی ہاں بات ہو رہی ہے ان اینکرز کی جنہوں نے زینب واقعہ کو اپنی شہرت کے لیے خوب استعمال کیا،ٹی وی اسکرین پر رونے کی اداکاری کرتے یہ اینکرز اس واقع پر سستی شہرت حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں خوب داوٴ پیچ لڑاتے نظر آئے۔ کچھ ٹی وی مالکان نے اینکرز کے روتے دھوتے چہروں کو بار بار دکھا کر اس دلخراش واقعہ سے بھی اپنی کمائی اور رینٹنگ بڑھانے میں کسر نہ چھوڑی

زینب ہو یا کوئی بھی بچہ ظلم زیادتی کسی صورت قابل برداشت نہیں،لیکن ان اینکرز اور میڈیا مالکان سے سوال یہ ہے کہ کتنے ہی سیٹھوں کے گھروں میں چائلڈ لیبر سے کام لیا جا رہا ہے،ٹی وی اسکرینز پر میک اپ زدہ چہروں کے پیچھے چھپے بعض اینکرز سے سوال ہے کہ کتنے بچے خود ان کے تشدد کے زد میں آچکے ہیں،گزشتہ دنوں لاہور ہی میں ایک بڑے چینل کی خاتون اینکر (غریدہ فاروقی) کے گھر کمسن ملازمہ کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔کتنے میڈیا ہاوٴسز نے اس پر واویلا مچایا اور کتنے اینکرز نے اس بچی پر پیش آنے والے رویہ پر رونے دھونے کا ناٹک رچایا؟؟ اس وقت کوئی نہیں بولا کسی کی ممتا نہیں جاگی کیوں کہ ہم سب کہیں نہ کہیں اس درندگی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں،جہاں ہمارا مفاد مشترکہ ہو وہاں ہم ظلم دیکھ کر خاموشی کیوں اختیار کر لیتے ہیں ؟؟؟؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ زینب اس قوم کی بیٹی تھی،اس سمیت جتنی بچیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ انسان تصور نہیں کر سکتا مگر میڈیا مالکان اور ٹی وی اسکرینز پر بیٹھے اینکرز نے جس طرح اس واقعے پر سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے وہ بھی انتہائی افسوس ناک اور ہمارے ملک میں میڈیا انڈسٹری کی ناپختگی کی مثال ہے۔

میک اپ زدہ چہروں میں چھپے یہ خود ساختہ والدین خدارا اس قوم کے جذبات کے ساتھ مت کھیلیں ٹی وی اسکرین صحافت کے لیے ہے تو صحافت کریں خود ساختہ والدین برائے فروخت کا بورڈ نہ لگائیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین