’سوری ٹوپی کی وجہ سے پہچان نہیں سکا‘

گزشتہ کچھ عرصے سے روز ہی پارلیمنٹ آنا جانا ہے ۔ پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کے لیے تعینات پولیس اور اسپیشل برانچ کے اہلکار روزانہ کی بنیاد پر کوریج کرنے والے صحافیوں کو جانتے ہیں اس لیے ہمیں واک تھرو دروازوں پر تعارف کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ دو روزپہلے میں گھر سے پارلیمنٹ کے لیے نکلا تو سر پر پکول رکھ لی ( ’پکول یا پٹو والی ٹوپی‘ خیبرپختونخوا اور پختون ثقافت کی اہم نشانی ہے )

اقتدار کے اعلی ترین ایوان اور وفاقی کی علامت کہلائی جانے والی عمارت پارلیمنٹ ہاوس کے بیرونی دروازے سے پکول سمیت داخل ہوا تو پولیس اہلکار نے آواز لگائی ’ہاں بھائی کدھر؟‘ ۔ کہا صحافی ہوں تو بولا ٹھیک ہے ۔ اندرونی دروازے سے داخل ہوا تو اسپیشل برانچ والے بھائی نے آواز لگائی کہ ’رکو بھائی کہاں جا رہے ہو‘ ، ٹوپی اتار کر کہا وہی ہوں جو روز یہاں سے گزرتا ہوں تو ہنس کر کہنے لگا ’سوری اس ٹوپی کی وجہ سے پہچان نہیں سکا‘ ۔۔

گزشتہ روز خبر آئی کہ دہشتگرد نجیب اللہ محسود کو پولیس مقابلے میں مار دیا گیا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ نجیب اللہ محسود تو ماڈلنگ کا شوقین پختون نوجوان تھا جو روزگار کے سلسلے میں وزیرستان سے کراچی گیا تھا۔۔ اسکا جرم یہ تھا کہ ماں باپ نے نام ایسا رکھا جو دہشتگرد بیت اللہ محسود سے ملتا تھا ۔۔ نام بھی دہشتگردوں والا اور جسمانی ڈھانچہ بھی وہی ۔۔ قصور تو اسکا ہے ۔۔

ایک ٹوپی یا داڑھی اس ملک کے شہری کو دہشتگرد بنا دیتی ہے، محسود نام تحریک طالبان کا سرگرم دہشتگرد بنا دیتا ہے ۔ انگریزی میں تو اسکو ’سٹیریوٹائپنگ‘ کہتے ہیں لیکن پاکستان میں اسکو کیا کہیں گے؟ ایک خاص قوم کو کیوں یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ وہ دہشتگرد ہیں؟ کوئی بتائے گا کہ اس تاثر کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومت یا میڈیا؟

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین