عمران خان نے جیو کے صحافیوں سے 5 سوالات کے جواب مانگ لئے

سربراہ تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے ان دنوں جنگ جیو اورگروپ کی بھرپور مخالفت جاری ہے،اپنے تازہ ٹویٹر پیغام میں عمران خان نے جنگ جیو سے وابستہ تحقیقاتی صحافیوں کو میر شکیل الرحمن سے وضاحت طلب کرنے کا چیلنج دے دیا۔اپنے پیغام میں عمران خان نے کہا کہ جیو کے صحافی میر شکیل ارحمن سے وضاحت طلب کریں کہ ان کے ادارے کے ملازمین کو 3ماہ سے تنخواہیں کیوں نہیں دی گئیں؟
پاکستان میں نقصان کے باجودمیر شکیل الرحمن کے بیرون ملک اثاثے کیسے بڑھ رہے ہیں؟


عمران خان نے مزید کہا کہ جیو کے صحافی یہ بھی پوچھیں کہ میر شکیل نے اب تک بلواسطہ یا بلاواسطہ کتنی غیر ملکی فنڈنگ حاصل کی؟دبئی اور لندن میں ایمرٹس ہل کے دو گھروں سمیت ان کے کل اثاثوں کی مالیت کیا ہے ؟کیا وہ ان تمام اثاثوں کی منی ٹریل دے سکتے ہیں؟


عمران خان نے مزید کہا کہ کیا میر شکیل بتا سکتے ہیں کہ کینال بینک لاہور میں اربوں روپے مالیت کا 100کنال پر مشتمل پلاٹ کن شرائط و ضوابط کے تحت حاصل کیا ؟


عمران خان نے کہا کہ2015میں میر شکیل کے ذمے ایک ارب روپے ٹیکس واجب الادا تھا،لیکن آج یہ ٹیکس کتنا ہے؟ کیا جیو کے تحقیقاتی صحافی میرے ان سوالات کا جواب دے سکتے ہیں؟


عمران خان نے واضح کیا کہ اگر جیو کے صحافی میرے ان سوالات کے جواب نہیں دے سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے لئے کام کر رہے ہیں جوپاکستان کو نقصان پہنچانے کا ایجنڈارکھنے والوں سے پیسے لے رہا ہے


عمران خان کے ٹویٹر پیغامات کے بعد پی ٹی آئی رہنماﺅں نے بھی سپریم کورٹ اور نیب سے میر شکیل کے اثاثوں کانوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا،پی ٹی آئی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ افتخار درانی نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ چیئرمین نیب میر شکیل الرحمان کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافے کا نوٹس لیں


پی ٹی آئی رہنماءعثمان ڈار بولے کہ عمران خان نے اپنی مکمل منی ٹریل فراہم کر دی اب میر شکیل الرحمن کی باری ہے

فیصل جاوید نے اپنی ٹویٹ میں لکھاکہ میر شکیل الرحمن اور سابق نااہل وزیر اعظم کے مالی معاملات میں مماثلت ہے، سپریم کورٹ میر شکیل کے غیر ملکی اثاثوں میں اضافے کا نوٹس لے۔


عمران خان کی شادی کی خبریں نشر کئے جانے کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے جیو اور جنگ گروپ کے مالکان پر شدید تنقید کی گئی جس کا سلسلہ تا حال جاری ہے،کب ختم ہو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اگر آپ کو ہماری خبر پسند آئی ہے تو ہمیں ٹویٹر پر فالو کریں ہمارا ٹویٹر اکاونٹ نیچے دیا گیا ہے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین