قائد اعظم سے تخیلاتی ملاقات کا احوال

(اسلام آبادسینئر صحافی سید علی حسن کی تحریر)
ائیر ہوسٹس کی ”ایکسکیوز می“ کی مدھُور آواز دور کہیں سے آئی، ساتھ ہی ٹرالی میں رکھے چمچ ٹکرانے کی آواز سے میں ہوش میں آگیا۔۔چند لمحے تو سمجھ ہی نہ پایا کہ میں کہاں ہوں؟ قائد اعظم کہاں گئے؟ ابھی ابھی تو وہ سڑک کنارے کھڑے پرانے ، بوسیدہ پیوند لگے کپڑوں میں لفٹ مانگ کر میرے ساتھ بیٹھے تھے، ابھی تو اُنکے آنسو بھی خشک نہ ہو پائے تھے۔۔ ابھی تو اُنکے ٹھٹرتے جسم میں لرزہ باوجوہ سرد ی با قی تھا۔۔گاڑی میں چلتے ہیٹر کی گرمی سے میں نے اُنکو گہری سانس لیتے دیکھا تھا جیسے بیمار کو قرار آجائے۔مگر وہ کہاں گئے؟ ائیرہوسٹس نے کھانے کی ٹرے پلٹنی ہی چاہی تھی کہ میں نے کافی کی فرمائش کر ڈالی۔۔اگر قومی ائیر لائن ہوتی تو یقینا انکار ملتا مگر یہ ایئر لائن اپنی سروس کی وجہ دنیا کی مقبول ترین ائرلائن تھی کہ خاتون نے فوراََ میرے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے گرما گرم کافی پیش کر ڈالی۔۔کافی کی چسکی کیساتھ ہی جیسے دماغ کے چودہ تبک روشن ہوگئے۔۔ اور پھر ”قائد اعظم سے ملاقات“ جیسے فلم کی مانند دماغ میں چلنے لگی۔
سردیوں کی سرد رات تھی۔۔دفتر سے کام کے سلسلے میں یورپ جانا تھا۔۔چونکہ میرا کام ایسا ہے کہ سال کے بیشتر ماہ میں سفر میں گزارتا ہوں اور گھر والوں کے ساتھ سال میں دو دفعہ وہ بھی عید پر ہی ملاقات کر پاتا ہوں، اُس رات دفتر سے دیرسے نکلا، رحیم باباجو کہ میرے ساتھ رہتے تھے ، ڈرائیور، خانساماں، مالی غرض سب کچھ ہی تھے کو میں نے اُنکے گاؤں چھٹی بھیج دیا تھا،انکا اور میرا ساتھ بچپن سے ہی تھا، والدین مصروف رہتے تھے، کاروبار کے سلسلے میں سفر، لنچ اور ڈنر پارٹیز میں رحیم بابا کی تربیت میں بڑا ہوتا گیا، مجھ سے زیادہ اُنکو میرے بارے میں سب پتہ تھا۔۔ وہ جتنے دیر میرے ساتھ رہتے باتیں کرتے رہتے، مجھے نہیں یاد کہ میں نے اُنکو کتنی بار خاموش رہنے کا کہا مگر پھر تھک کر اُنکو اُنکے حال پرچھوڑ دیا، وہ اکثر مجھ سے قائد اعظم کی باتیں کرتے تھے، شروع شروع میں تو میں تنگ آتا تھا مگر شاید پھر مجھے قائد سے محبت سی ہو نی لگی۔۔اکثر تجسس ہوتا کہ قائد کے بارے میں کچھ خود سے پڑھوں۔۔مگر ہر دفعہ مصروفیت قائد پر حاوی ہو جاتی۔۔پلاسٹک منی کی وجہ سے قائد کا دیدار جو پہلے ہو جایا کرتا تھا اُس سے بھی گئے۔۔اللہ بھلا کرے رحیم بابا کا جن کی بدولت قائد کبھی کافی کے مگ ، کبھی کھانے کی ٹیبل تو کبھی موبائیل فون کے نیچے دبے ”چُھٹے“ کی صورت اپنی موجودگی کا خاموش احساس دلاتے رہتے۔۔
گاڑی جب پارکنگ لاٹ سے نکالی تو سگریٹ کی خالی ڈبی منہ چڑا رہی تھی۔۔رحیم بابا میں بس یہی ایک خرابی تھی کہ اُنہوں نے زہر نہ پینے اور نہ اپنے ہاتھ سے پلانے کی قسم کھا رکھی ہے، دفتر کے پاس سے ”کھوکھے“ پر گاڑی روکی تو دکاندار مطلوبہ سگریٹ لے کر فوراََ آ گیا۔۔سگریٹ کے پیسے دیتے وقت ایک لمحہ کے لئے قائد اعظم نگاہوں کے سامنے سے گذرے۔۔گاڑی ابھی مین روڈ پر بھی نہ چڑھی تھی کہ ایک شخص کو نہایت ہی مخدوش حالت میں ہاتھ بڑھائے ”لفٹ“ مانگتے دیکھا۔۔میں عموماََ ”لفٹ“نہ دینے کے حق میں ہوں، پتہ نہیں میں نے کیوں بریک لگا دی۔۔گاڑی کا دروازہ کھول کر جو شخص اندر داخل ہوا، بہت مانوس لگا۔۔پتہ نہیں کیوں ”اپنا اپنا“ سا لگا۔۔بیٹھتے ہی یورپی لہجے میں نہایت ہی شائستہ انگریزی میں شکریہ ادا کیا اور تکلیف دینے کیلئے معافی مانگی۔۔لہجہ اور آواز سُن کر لگا، کوئی ”اپنا“ ہی ہے، نہ چاہتے ہوئے اپنا تعارف کروا کر پوچھا کہ ”کہاں جائیں گے“؟انہوں نے کہا ”جانا تو بہت دور ہے۔۔جہاں آسانی ہو اُتار دو“۔۔اب جو میں نے بغور دیکھا تو لگا جیسے قائد اعظم ہوں، بے اختیار گاڑی روک دی، انہوں نے میرے پوچھنے سے پہلے بولنا شروع کیا” ہاں، تم نے شاید میرے بارے میں کتابوں، مضمونوں میں پڑھا ہو، ٹی وی پر میری تقاریر سنی ہوں یا میری قبر پر فاتحہ نہیں تو کم از کم گھومنے تو آئے ہی ہو گے۔۔میں نے شرمندگی سے سر جُھکا لیا، روشنیوں کے شہر میں رہتے ہوئے ، میں کبھی بھی قائد کے مزار پر نہیں جا سکا تھا، تھوڑی دیر توقف کے بعد ارشاد فرمایا ” مجھے کسی سے کوئی گِلا نہیں، اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ میرے پاس تم نہیں آئے، تم اُس مقصد کو سمجھ نہیں سکے جس کے باعث 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا“، ”مجھے دکھ ہو تا ہے کہ جب کوئی شخص میری تصویر کے نیچے بیٹھ کر”ملک “میں بدامنی، چوری، خیانت، جھوٹ اور تباہی کی پلاننگ کرتا ہے۔۔کیا اسی لیے ہم نے پاکستان بنایا تھا“؟میرے پاس اُنکی باتوں کا جواب نہیں تھا۔۔میں شرمندہ تھا، قوم کا قائد میرے ساتھ بیٹھا اپنی نہیں ”ہماری حالت“ پر رو رہا تھا۔۔میں بھی اس ”تباہی“ کا حصّہ تھا۔۔قانون کیساتھ میں کھیلتا ہوں، جن کے اختیار میں قانون ہیں۔۔اُنکا کیا حال ہو؟ اُنکا حال دیکھنے کیلئے مجھے کہیں جانے کی ضرورت نہیں تھی، صرف آنکھیں کھولنا تھیں۔۔اچانک قائد اعظم کی آواز سے میں اپنی سوچوں کے سمندر سے واپس آیا۔”مجھے یہیں اتا ردو بیٹا“۔۔میں انکار نہ کر سکا۔۔کس منہ سے کرتا؟ کس زبان سے اُنکو روکتا؟ گاڑی کا دروازہ کھولنے سے پہلے اُنہوں نے گہری نگاہ ڈالتے ہوئے مجھ سے ایک سوال کر ڈالا”کیا تم پاکستان سے محبت کرتے ہوں؟“ میں ”جی“ میں جواب دینا چاہتا تھا۔۔مگر ۔۔آواز کہیں دب گئی۔۔ ہتھیلیوں میں پسینہ جمع ہو گیا۔۔جسم سے جیسے جاں نکل گئی۔۔میں جواب نہ دے سکا۔۔”مجھے معلوم ہے تمھارا جواب۔۔میں اس امیّدکے ساتھ تم سے اجازت چاہوں گا کہ جس دن تمھارے پاس اس بات کا ”جواب“ آجائے۔۔کم از کم اپنے منہ سے پاکستان سے محبّت کا اظہار کرنا ضرور“۔۔گاڑی کا دروازہ کھلا تو ٹھنڈی ہواوں کے تھپیڑے سے میں واپس شاید ہوش میں آیا۔۔
قائد کہاں گئے؟؟ کیا وہ قائد بھوت تھا؟ کیا کسی نے میرے ساتھ مذاق کیا تھا؟ مگر کیوں؟ میں ہی کیوں؟ائیر پورٹ سے ہوٹل کی طرف روانگی کے ساتھ موبائیل فون آن کیا۔۔پاکستان کے حالات سے باخبر رکھنے والی ایک نیوز ایجنسی کی ”بریکنگ نیوز“ پڑھنا شروع کی۔ جس میں ایک سیاست دان ملک میں تباہی کا ذمہ دار اپنے سے پہلی حکومت کونامزد کر رہا تھا، میں نے ذہن پر تھوڑا زور ڈالا تو کڑی سے کڑی ملتی گئی ۔۔یعنی تمام حکومتیں تمام تر خرابیوں کو اپنے حصّہ میں جگہ دینے کو قطعاََ تیار نہیں۔۔تو کیا یہ ”سلسلہ“ قائد پر ُرکے گا؟ کیا قائد اعظم تمام برائیوں کے ذمہ دار ہیں؟
میرے پاس اس ”سوال“ کا جواب نہیں۔۔ اگر آپ کے پاس ہے تو خود اپنے آپ کو یہ بات محسوس کر وا لیں کہ ”کیا مجھے پاکستان سے محبت ہے؟“ شاید کوئی امیّد کی کرن پیدا ہو ہی جائے۔

سیّد علی حسن

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین