بچی سے زیادتی اور قتل کا واقعہ قصور میں صورت حال کشیدہ

پنجاب کے شہر قصور میں 8 سالہ بچی کے ساتھ زیاتی اور قتل کے بعد اہل علاقہ کی جانب سے انتظامیہ کی نا اہلی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی, صورت حال اس وقت کشیدہ ہوئی جب شہر کے کچہری چوک میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پنجاب پولیس اہلکاروں نے براہ راست فائرنگ شروع کر دی! پولیس کی فائرنگ سے 4 مظاہرین شدید زخمی ہو گئے جن میں سے 2 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے! کشیدہ صورت حال کے پیش نظر قصور میں پولیس کی مزید نفری طلب کر لی گئی ہے جبکہ مظاہرین کے احتجاج میں بھی شدت آ رہی ہے! پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے بچی کے ساتھ زیادتی کے معاملے کی مذمت کرتے ہوئے واقع کو افسوس ناک قرار دیا مگر پولیس کی جانب سے براہ راست گولیاں چلانے کا معاملہ گول کر گئے! وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلی حکام سے رپورٹ طلب کر لی! واضح رہے کہ ماڈل ٹاون لاہور میں بھی عوامی تحریک کے مظاہرین پر پولیس کی جانب سے گولیاں برسائی گئیں تھیں جن کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں تا حال پنجاب حکومت کے لئے وبال جان بنی ہوئیں ہیں!

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین