بلوچستان کابینہ تحلیل ،وزیر اعلی مستعفی ہو گئے۔

ایک ہفتے سے بحرانی کیفیت کی شکارصوبہ بلوچستان کی سیاست میںہل چل مچ گئی ،وزیر اعلی بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کیے جانے سے کچھ دیر قبل ہی ہتھیار ڈال دیئے اور ا پنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔، جس کے ساتھ ہی بلوچستان کابینہ تحلیل ہو گئی ۔نواب ثنا اللہ زہری کی اپنی ہی جماعت یعنی مسلم لیگ نواز کے اراکین نے ان کے خلاف تحریک عدم پیش کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔جس کے پیش نظر نواز شریف کی ہدایت پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر اعلی بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی بھرپور کوششیں کی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ ثنا اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لئے بلوچستان اسمبلی کا غیر معمولی اجلاس آج طلب کیا گیا تھامگر اجلاس سے قبل ہی اعداد وشمار اپنے مخالف دیکھتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ثنا اللہ زہری کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا۔جس کے بعد ثنا اللہ زہری نے اپنا استعفی گورنر بلوچستان کو بھجوا دیا ۔

چیف سیکریٹری بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق گورنر بلوچستان نے یہ استعفیٰ منظور کر لیا ہے جس کے بعد کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں کل نشستیں 65ہیں ،جن میں مسلم لیگ نواز 21نشستوں کے ساتھ سر فہرست تھی۔تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے یا ناکام بنانے کی صورت میں 33ووٹ درکار تھے۔اطلاعات کے مطابق تحریک عدم اعتماد لانے والے اراکین کی تعداد 50سے تجاوز کر چکی تھی جس کے باعث ثنا اللہ زہری کے حامیوں کی تعداد محض 15کے قریب ہی رہ گئی تھی، جس کے باعث استعفے کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں تھا۔استعفے کے بعد ایک بیان میں ثنا اللہ زہری نے کہا ہے کہ ان کے چند ساتھیوں نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جس کے بعد ان کے تحفظات دور کر نے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ایسی صورت حال میں جب ا راکین اسمبلی کی بڑی تعداد ان کی قیادت سے مطمئن نہیں وہ ان پر زبردستی مسلط نہیں ہونا چاہتے تھے اس لئے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین