طاہر القادری کا 17جنوری سے حکومت مخالف احتجاجی تحریک کا اعلان

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے حکومت مخالف نئی احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا۔شہدائے ماڈل ٹاون اور ورثاءکو انصاف نہ ملنے پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر نئی احتجاجی تحریک کا فیصلہ کیا گیا ہے۔لاہور میں آل پارٹیز کانفرنس کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر القادری نے کہا کہ ڈیڈ لائن گزر جانے کے باوجود وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے استعفوں کے ہمارے مطالبوں پر عمل درآمد نہیں ہوا ، اب استعفوں کا مطالبہ نہیں دہرایا جائے گا بلکہ پوری ن لیگ کی حکومت کا خاتمہ کریں گے، جس کے لئے احتجاجی تحریک کا آغاز 17جنوری سے ہو گا۔

طاہر القادری نے مزید کہا کہ احتجاج کے لئے تمام اآپشن کھلے ہیں،حکمت عملی طے کرنے کے لئے تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایکشن کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کا پہلا اجلاس 11جنوری کو طلب کر لیا گیا ہے۔ایکشن کمیٹی میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد،پاکستان پیپلز پارٹی کے قمر الزمان کائرہ ،تحریک انصاف کے علیم خان، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور مسلم لیگ ق کے کامل علی آغاشامل ہوں گے جو حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے طریقہ کار سمیت تمام معاملات کو حتمی شکل دیں گے۔طاہر القادر ی نے کہا کہ حکومت نے آئین کو بے توقیراورمعصوم جانوں کاقتل عام کیا، ختم نبوت کے قانون پر بھی ڈاکہ زنی کی جس کے پس پردہ ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔

دوسری جانب وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے 4سال سے استعفے کی رٹ لگا رکھی ہے ،استعفی مانگنا طاہر القادری کی عادت ہے جسے سنجیدہ نہیں لیا جاسکتا، احتجاج آئین اور قانون کے دائرہ سے باہر اورپر امن نہ ہوا تو قانون حرکت میں آئے گا۔جو انصاف ڈھونڈا جا رہا ہے وہ عدالت سے ملے گا کسی احتجاج یا دباو سے نہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین