عمران خان کی انگلش پریس کانفرنس، ٹرمپ کو بھرپور جواب

سربراہ تحریک انصاف عمران خان نے پاک امریکہ حالیہ کشیدگی اور پاکستان کی امداد بند کئے جانے کے بعد پاکستان کا موقف پیش کر تے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو بھرپور جواب دیا۔اپنی کانفرنس کے دوران انگلش زبان میں امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو افغانستان میں سب سے زیادہ امن کا خواہش مند ہے دنیا میں اگر صرف ایک ملک ہو جو افغانستان میں امن چاہتا ہو تو وہ پاکستان ہو گا۔عمران خان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں بد امنی کے لئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانانا انصافی ہے اور ایسا امریکہ کے عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے کیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی حکام اپنے ہی لوگوں کو حقیت سے گمراہ کر رہے ہیں۔کیا امریکہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ نیٹو فوجی پاکستان کے چند ہزار عسکریت پسندوں سے ہار گئے؟یہ کیسے ممکن ہے کہ دو لاکھ سے زائد افغان آرمی اور ڈیڑھ لاکھ نیٹو فوجی افغانستان میں اس لئے کامیاب نہیں ہو رہے کہ چند ہزار عسکریت پسند پاکستان سے افغانستان گئے؟

عمران خان نے کہا کہ ان کی رائے میں یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ویت نام کی جنگ کے دوران کمبوڈیا تباہ ہوا تھا ۔ویت نام جنگ کے دوران کمبوڈیا پر بھی یہ الزام لگایا گیا تھا کہ کمبوڈیا سے عسکریت پسند ویت نام آ رہے ہین جس کی وجہ سے امریکہ جنگ جیت نہیں پا رہا اور اس کے بعد امریکہ نے کمبوڈیا پر بمباری کی جس کے نتیجے میں دس لاکھ کمبوڈین شہری اس جنگ میں مارے گئے ۔بالکل اسی طرح پاکستان نے جس کا دہشت گردی کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا 70ہزار جانیں گنوا دیں اور 100بلین ڈالرز کا معاشی نقصان اٹھایا۔اس کے بعد پاکستان سے کہا گیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے ،اس آپریشن کے نتیجے میں دس لاکھ پاکستانی بے گھر ہو ہو ئے اورآئی ڈی پیز بن کر وزیرستان سے غائیب ہو گئے ۔

عمران کان نے واضح کیا کہ شمالی وزیرستان کا صفایا کرنے کے باوجود ابھی تک تقریبا نصف افغانستان طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ اس لئے امریکہ کی جانب سے افغانستان میں اپنی ناکامی پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا نا صرف ناانصافی ہے بلکہ پاکستانی عوام کی توہین اور بے عزتی ہے جو کسی صورت برداشت نہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین