دھرنے کے نقصان پر سپریم کورٹ برہم! چینل 92کی نشریات پر بھی شدید غصہ

سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنہ از خود نوٹس کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی،سماعت کے دوران وزارت دفاع اور داخلہ کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کر دی گئیں،جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ دھرنے سے کتنا مالی نقصان ہوا ؟ سکیورٹی ایجنسیوں کے کتنے افراد زخمی ہوئے،کتنے پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے؟ جواب میں اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف نے بتایا کہ دھرنے سے 13کروڑ 95 لاکھ روپے کا نقصان ہوا،دھرنے کے دوران کوئی اہلکار جاں بحق نہیں ہوا،مگر سینکڑوں سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے، ایک کی آنکھ ضائع ہوگئی۔، جسٹس قاضی فائز نے نقصان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا صرف مسلمان ممالک میں ہی ایسا کیوں ہوتا ہے،سمجھ نہیں آتا ملک کہاں جا رہا ہے، نہ جانے غنڈوں کے آگے ادارے خاموش کیوں رہے۔

جسٹس قاضی فائز نے مزید کہا کہ مظاہرین کے سوشل میڈیا چینلز آج بھی چل رہے ہیں،کیا حساس اداروں کی اس بات پر نظر ہے یا نہیں،کیا اس بات کا احساس ہے کہ دھرنے کے دوران ملک کے چاروں ستون خطرے میں تھے،پارلیمنٹ اور عدلیہ کو بھی خطرہ تھا،اتنے برے حالات کے باوجود خفیہ ایجنسیز نے مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں، جو معلومات فراہم کی گئیں وہ کسی تھانے کے انسپکٹر سے بھی لے سکتے ہیں،۔عدالت نے دھرنے کے دوران نجی ٹی وی چینل 92کی نشریات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ چینل کا مالک کون ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا چینل کے مالک میاں رشید ہیں، پیمرا حکام نے سماعت کے دوران بتایا کہ چینل 92 نے دھرنے کی براہ راست کوریج کی، زخمی اہلکاروں کو نمایاں کر کے ٹی وی اسکرین پر دکھایا گیا،

 

جسٹس قاضی فائز بولے پیمرا نے چینل کیخلاف ابتک کیا کاروائی کی؟کیا92چینل معطل ہے، یا اس چینل کوشوکاز نوٹس جاری کیا گیا؟ جس پر پیمرا حکام نے کہا کہ انفرادی طور پر کوئی نوٹس نہیں بھیجا گیا، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیمرانے اس چینل کیخلاف کارروائی نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی،اگر چینل نے قانون توڑا تو اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟کیا وہ بہت طاقتور لوگ ہیں ؟ جسٹس قاضی فائز نے استفسار کیا کہ پیمرا نے لکھ کردیاکہ نجی چینل نے قانون توڑا ہے، قانون توڑا ہے تو کاروائی بھی ہونی چاہیے، پیمرا آزاد ادارہ ہے وہ تو پی ٹی وی کے خلاف ایکشن لے سکتاہے،پھر اشتعال انگیزی دکھانے والے ٹی وی چینل کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟ یہ قانون کا سرا سر مذاق ہے ،یہ پیغام نہیں دینا چاہتے کہ ہم کسی کیخلاف کارروائی کر رہے ہیں، لیکن اگر یہی کرنا ہے تو قانون کو ختم کر دیں،امید ہے ریاست کو مفلوج کرنے کا یہ آخری واقعہ ہوگا، جسٹس قاضٰ فائز عیسی نے کہاکیا دھرنے دینے والی مذہبی جماعت کے سربراہ کہیں نوکری کرتے ہیں؟سربراہ کا ذریعہ معاش اور ایڈریس کیا ہے؟ آئی ایس آئی اور آئی بی سے پوچھاتھا یہ لوگ پیسہ کہاں سے حاصل کررہے ہیں؟

جس پر وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا عدالت نے حکم نامہ میں جو تفصیلات مانگی وہ فراہم کر دی ہیں، عدالت نے نمائندے سے پوچھا آپ وزارت دفاع میں کس عہدے پر ہیں؟نمائندے نے بتایا میں وزارت دفاع میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہوں، عدالت نو پوچھا گریڈ کیا ہے بتایا گیا 18،جس پر عدالت نے یہ کہتے ہوئے کیس کی سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی کہ کیا کیا اس سے بڑے عہدے اور گریڈ کا کا افسر وزارت دفاع کے پاس نہیں جو ہمیں تفصیلات فراہم کرے ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین