پاکستانی کوہ پیماہ کا دنیا کی خطرناک اور بلند ترین چوٹی بغیر آکسیجن سر کرنے کا اعلان

اسلام آباد (اے جے چوہدری)  پاکستانی کوہ پیماہ نے ملک کا جھنڈا دنیا کی خطرناک اور بلند ترین چوٹی پر لہرانے کا اعلان کر دیا۔گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماہ محمد علی سد پارہ کل سے ماونٹ ایورسٹ کی طرف سفر شروع کر یں گے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حسن سدپارہ نے بتایا کہ ان کاسفر انتہائی خطرناک اور جان لیوا ہو سکتا ہے کیونکہ ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کا سفر بغیر کسی مصنوعی آکسیجن کے ہوگا۔

چوٹی سر کرنے کے دوران درجہ حرارت منفی 50سے منفی 55سینٹی گریڈ ہوگا جو آکسیجن کی غیر موجودگی میں کسی بھی ہنگامی صورت حال کا باعث بن سکتا ہے۔حسن سدپارہ اس سے قبل 2مرتبہ پاکستان کی بللند ترین چوٹی نانگا پربت بھی سر کر چکے ہیں۔محمد علی سد پارہ نے بتایا کہ 2015میں آکسیجن کے بغیر نانگا پربت سر کرنے کے دوران درجہ حرارت منفی 55ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تھا جس کے باعث مسائل پیدا ہوئے تھے۔

محمد علی سد پارہ نے بتایا کہ جب بھی غیر ملکی کوہ پیما ماونٹ ایورسٹ پر اپنے ملک کا جھنڈا لہراتے تھے تو دل میں خواہش ہوئی کہ کیوں نہ وہ بھی پاکستان کا جھنڈادنیا کی بلند ترین چوٹی پر لہرائیں ۔محمد علی سد پارہ نے اپنی گفتگو کے دوران بتایا کہ مہم کی تکمیل کے لئے غیر ملکی افراد نے بھرپور تعاون کیا مگر جب اپنی خواہش کا اظہار وزیر اعلی گلگت بلتستان سے کیا تو انہوں نے حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کی ،مہم کے لئے درکار رقم دینے سے نہ صرف معذرت کی بلکہ بے عزت کرتے ہوئے کہا کہ کہ آپ کو 21ہزار ڈالرز دینے کی بجائے کسی سکول کو کیوں نہ دوں جس پر بے حد افسوس ہوا۔ محمد علی سد پارہ نے پوری قوم سے دعاوں کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چوٹی سر کرنے میں کامیاب ہو گئے تو موسم سرما میں چوٹی سرکرنے والے دنیا کے پہلے کوہ پیما بن جائیں گے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین