تبدیلی ایسے آئے گی!

اسلام آباد (سید علی حسن ) میں ایک عام آدمی ہوں۔بالکل آپکی طرح۔۔ میری بھی ہر صُبح آنکھ موبائل فون آلارم کی گھنٹی سے کھلتی ہے اور پھر سارا دن کیسے گزرتا ہے ۔۔معلوم ہی نہیں چلتا۔۔ دن بھر کی ڈھوڑ دھوپ کے بعد رات جب، لحاف کی گرمائش کے بعد دماغ زرا کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے آشکار ہوا تو اُسوقت رات کی خاموشی توڑتی وال کلاک سے آتی ٹِک ٹِک کی آواز کیساتھ سارا دن اور کچھ ایسے لمحات ضرور آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔۔جیسے شاید” روزِ قیامت“ ہمارے اعمال ہمارے سامنے رکھیں جائیں گے۔

ناشتے کے دسترخوان سے گاڑی میں دفتر کی طرف جاتے مجھے اکثر لگتا ہے کہ شاید میں کسی جاہل او ران پڑھ قوم کے درمیاں آسماں سے آ گرا ہوں۔ بھئی یہ لوگ بیچ سڑک کیوں چلتے ہیں؟ موٹر سائیکل والوں کو تو بس زرا سی جگہ مل جائے۔۔او بھائی زرا بریک بھی لگا لیا کرتے ہیں، ارے یہ رکشہ سواری کیساتھ پیسوں پر سڑک کے بیچ بحث میں لگا ہوا ہے۔۔یہ کیسا شخص ہے جو اپنے بچوں کیساتھ سٹرک زیبرا کراسنگ کے بجائے کہیں سے بھی پارکر لے گا؟۔۔کیا بے حسی ہے۔ ایمبولینس کی آواز بند شیشوں اور بلند مُوسیقی میں دب کر کیوں رہ گئی؟ یا اللہ یہ خواتین گاڑی کیوں چلاتی ہیں؟ اے ٹی ایم سے دودھ کی دکان اور پنسار کی سست روی۔۔یہ سب ”کب تک چلے گا؟ ۔۔ یہ تب تک چلے گا جب تک میں اپنی سوچ کی انفرادیت اور معاشرے میں بہتری کا خواب دیکھنا بند کر کے خود سے ہی پہل کروں۔
معاشرے میں تیزی سے بڑھتی بے حسی ، عدم برداشت اور ان جیسے تمام الفاظوں کی ذمہ دار حکومتِ وقت کو بھی بہت اہم اور اعلٰی مقام حاصل ہے۔ کئی دھائیوں سے تو میں یہ گھِسا پِٹا ڈائیلاگ سن رہا ہوں کہ  پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ میری سیاسی لِکھارِیوں سے دست بدستہ گذارش ہے کہ خدارا اب اس سے آگے چلیں اور ڈائیلاگ بدل ڈالیں کیونکہ جب تک ہر خاص اور عام خود سے بدلنا نہ چاہے کچھ ٹھیک ہونے والا نہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ ملک کی سیاسی جماعتوں نے مل کر اور انفرادی حیثیت میں کتنی دوزخ اکھٹی کر رکھی ہے، مجھے یہ معلوم ہے کہ قبروں کو بھول، اب بھی جس کو جہاں موقع مل رہا ہے، لُوٹ کھسوٹ میں مگن ہے۔ مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ تقریباََ تمام ہی سیاست دانوں کو معلوم نہیں ہو گا کہ بسوں میں سفر کرنا، ٹوکن لے کر اپنی باری کا انتظار کرنا، جب مہینہ ختم ہونے میں 15 دن سے بھی زائد دن باقی ہوں اور جیب ہلکی ہونا محسوس ہونا شروع ہوجائے تو کس طرح ایک ایک روپیہ احتیاط سے خرچ کرنا، گھر کی ضرورتوں کی خاطر ڈاکٹر کے پاس نہ جانا اور خود سے جسم درد کی گولی پر گزارہ کرنا کیسا ہوتا ہوگا۔جو بھی حکمران پارٹی آتی ہے وہ اپنے سے پہلے والوں کو کوستی ہے کہ ملک تباہ کر دیا، اور یہ سلسلہ اس تحریر کے لکھے جانے تک جاری ہے اور شاید جاری رہے گا۔
بظاہر ملک میں جاری” احتسابی موسم“ سے کچھ بہتری آنے کے قوی امکانات موجود ہیں، اور اُمیّد ہے کہ آزادی کے 70 سال بعد شاید ہم بھی روایتی سیاست دانوں سے نجات حاصل کر پائیں اور دوسرے معاشروں کی طرح آزاد ہو جائیں۔۔ شاید معاشرے میں موجود احساسِ محرومی اور نا اُمیّدی کے خاتمے کا آغاز ہو سکے، جہاں نہ حق مارا جائے، ٹارگٹ کلرز کی بندوقوں کے منہ ٹھنڈے پڑ جائیں۔ پینشن حاصل کرنے والے باعزت طریقے سے ، سرکاری اسپتالوں اور اسکولوں میں اعتماد، پکی سڑک، صاف پانی، پکا مکان اور تن ڈھاپنے کو مناسب کپڑے کا حصول صرف خوابوں خیالوں کی باتیں نہ رہیں۔
اگر میںٹھیک ہو جاﺅں تو مجھ سے وابستہ افراد پر بھی اسکا اثرپڑے گا۔ یہ مشکل کام نہیں۔۔بہت ہی مشکل کام ہے۔۔اس کے لئے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے” جذبہ“۔جب تک باقی نظام ٹھیک ہونے کی طرف گامزن ہو، کیوں نہ میں اپنے اندر سے تبدیلی کا آغاز کروں، کیوں نہ تھوڑا ہی سہی، خیال کروں۔ عزت دوں، اپنے آپ کو بُلند و مقدس سمجھنا چھوڑ دوں، چوری، غیبت ، جھوٹ بولنا چھوڑ دوں؟ قرآن پاک کو ترجمے کیساتھ پڑھنا شروع تو کر ہی سکتا ہوں، اُس میں ہدایت ہے، روز صرف ایک ہی سہی ۔۔سطر تو پٹرھ اور سمجھ سکتا ہوں۔۔اگر مجھے روشنی مل گئی تو راستہ دوسروں کیلئے ہموار کر ہی سکتا ہوں۔۔اگر راستہ دینے کی ابتداءمیں کروں تورستہ مجھے بھی ملے گا۔ ۔۔
موبائیل فون آلارم کی گھنٹی سے آنکھ کھلی، بیگم کی چائے صدا اور بچے کی صُبح بخیر کی آواز کانوں میں پڑتے ہی نئے ”جذبے“ کیساتھ آج اپنے پیروں پر کھڑا ہو نے کا وقت آگیا۔۔ آج کا دن بہت مشکل ہو گا! بہت ہی مشکل۔۔ مگر مجھے کوشش کرنی ہے، اپنے لیے، اپنوں کیلئے۔۔کیونکہ میں کوشش کرونگا۔۔میں ایک عام آدمی جو ہوں۔اور تبدیلی ایسے ہی آئے گی

نوٹ: اگر آپ بھی اچھے لکھاری ہیں تو ہمیں اپنی تحریر بھیجئے، اہم اپنی ویب سائٹ پر شائع کریں گے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین