آرمی چیف ، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ملٹری پہلی مرتبہ سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش

آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ سینیٹ کی ہول کمیٹی کے سامنے پیش ہو گئے۔ آرمی چیف،ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر سمیت اعلی عسکری حکام کے ہمراہ صبح دس بجے پارلیمنٹ ہاوس پہنچے تو ڈپٹی چیئر مین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے ان کا استقبال کیا۔سینیٹ کی ہول کمیٹی کے جلاس سے قبل چیئرمین سینیٹ کے رضا ربانی کے چیمبر میں ان سے ملاقات کی ملاقات میں راجہ ظفر الحق، اوراعتزازاحسن بھی شریک تھے، مختصر ملاقات کے بعدرضا ربانی کی زیر صدارت سینیٹ کی ہول کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس شروع ہو ا،جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ملٹری آپریشن بھی شریک ہوئے۔اجلاس کا آغاز آرمی چیف کے دورہ افغانستان اور ایران پر بریفنگ سے ہوا، جو سینیٹ اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے بعد فوجی عدالتوں تک جا پہنچا۔آرمی چیف نے فوجی عدالتوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ ان عدالتوں نے اب تک 274 مقدمات کا فیصلہ کیا ہے جن میں 161مجرموں کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے جبکہ 56 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔13 مجرموں کو آپریشن ردالفساد سے پہلے اور 43 مجرموں کو آپریشن ردالفساد کے بعد پھانسی دی گئی ، ذرائع آرمی چیف بننے کے بعد فوجی عدالتوں کو 160 مقدمات بھیجوائے گئے،جن میں سے 33پر فیصلہ سنایا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ7 جنوری کو فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پر مقدمات پر کاروائی روکی گئی،تاہم 28 مارچ کو فوجی عدالتوں مدت میں توسیع کر دی گئی۔ عسکری حکام نے آپریشن رد الفساد سے متعلق پوچھے گئے سوالات میں بتایا کہ آپریشن رد الفساد کے تحت اب تک خیبر پختونخوا اور فاٹا میں 1249 کومبنگ اور انٹیلیجنس بیس آپریشن کئے گئے،پنجاب میں 13011 کاروائیاں کی گئی،بلوچستان میں 1410 اور سندھ میں 2015 آپریشنز کئے گئے۔ڈی جی ملٹری آپریشن نے سینٹ ہول کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں میجر آپریشن جبکہ بلوچستان میں 29 میجر آپیشنز کئے گَئے سندھ میں 2 ، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں 31 میجر آپریشنز کئے گئے۔مجموعی طور پر آپریشن ردالفساد کے دوران 69 اہم ترین آپریشنز ہوئے۔انٹیلیجنس اطلاعات پر مجموعی طور پر 18001 کاروائیاں کی گئی اور4983 سرچ بیسڈ آپریشن کئے گئے جن میں سے پنجاب میں 4156 ، بلوچستان میں 45 ، سندھ میں 224، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں 558 سرچ بیسڈ آپریشن شامل ہیں,اس دوران مجموعی طور پر 19993 ہتھیار ریکور ہوئے پنجاب سے 2751 ، بلوچستان 2332 ، سندھ سے 1046 ، خیبر پختونخوا ااور فاٹا سے 13864 ہتھیار بر آمد ہوئے۔

 

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین