شریف خاندان مشکل میں ! حدیبیہ کی تلوار پھر سے لٹکنے لگی!

اسلام آباد ( ذوالقرنین حیدر ) سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی رکنی بینچ نے جمعے کو قومی احتساب بیورو کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف ، شہباز شریف اورشریف خاندان کے افراد کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ کھولنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔جس کے بعد 17سال سے شریف خاندان کے لئے مشکل کا باعث بنا یہ کیس ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا تھا۔ تاہم آج قومی احتساب بیورو کے اعلی حکام کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کر لیاگیا ہے، جس کے بعد شیریف خاندان پر حدیبہ کیس کھلنے کی تلوار ایک بار پھر لٹکنے لگی ہے۔واضح رہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس میں شریف خاندان پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا الزام عائد ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے 1990ء کی دہائی میں اپنی ’حدیبیہ پیپر ملز‘ کے ذریعے 1.24 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ مقدمے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعترافی بیان دیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ شریف برادران کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حدیبہ پیپر ملز کیس کو شریف خاندان کے لئے پانامہ سے بڑا کیس قرار دیا جاتا رہا ہے۔ قومی احتساب بیورو میں نظر ثانی درخواست کے متن کی تیاری کا کام شروع ہو چکا ہے جس کے بعد جلد کیس کھولنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین