نہ جہاز رکا نہ اے ٹی ایم بند ہوئی !

تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیر ترین کے بارے میں یہ تاثر عام رہا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کو بے پناہ فنڈنگ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عمران خان کو سفری سہولیات کے لئے اپنا ذاتی جہاز اور ہیلی کاپٹر فراہم کرتے رہے ہیں جس کی بنا پر انہیں پارٹی میں دوسرے رہنماوں کی نسبت عمران خان کے زیادہ قریب سمجھا گیا جبکہ مخالفین کی جانب سے انہیں پی ٹی آئی کے لئے اے ٹی ایم قرار دیا جاتا رہا ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جہانگیر ترین کی نا اہلی کے فیصلے کے بعد ملک کی دو حریف جماعتوں کے حامیوں اور مخالفین میں لفظوں کی جنگ چھڑ گئی،مخالفین نے تنقید کے نشتر برساتے ہوئے پی ٹی آئی کے حامیوں سے کہا کہ جہانگیر ترین کی نا اہلی سے عمران خان کی جیب کٹ گئی۔اب عمران خان جہانگیر ترین کے ہیلی کاپٹراور جہاز کا استعمال کیسے کریں گے؟؟؟

دوسری جانب پی ٹی آئی کے حامیوں نے مخالفین کو ترکی بہ ترکی جواب دیا اور کہا کہ نہ جہاز رکے گا نہ اے ٹی ایم بند ہوگی ! سوشل میڈیا پر چھڑی اس لفظی جنگ کو مذاق کی حد تک ہی سمجھا گیا۔مگر اتوار کی صبح عمران خان اوکاڑہ جلسے کے لئے اسلام آباد سے روانگی کے لئے ائیر پورٹ پہنچے تو سامنے جہانگیر ترین کا ذاتی جہاز ان کا منتظر تھا۔

عمران خان اپنے ساتھیوں سمیت اسی جہاز میں سوار ہوئے اور جلسہ گاہ کے لئے اڑان بھر لی۔اس ساری صورت حال کو سوشل میڈیا پر ایک بار پھر موضوع بحث بنا لیا گیا ہے۔ اپنے پیغامات میں پی ٹی آئی کے حامی کہ رہے ہیں ’کہا تھا نا کہ نہ اے ٹی ایم بند ہوگی نہ جہاز رکے گا‘

جہانگیر ترین نا اہلی کے باوجود کپتان کا ساتھ اسی طرح نبھاتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ نا اہلی کے بعد جہانگیر ترین اپنے پارٹی عہدے سے بھی مستعفی ہو چکے ہیں دوسری جانب عمران خان اپنے ٹویٹ میں لکھ چکے ہین کہ جہانگیر ترین کو پارٹی میں رہنے کے لئے کسی عہدے کی ضرورت نہیں۔دونوں نئے پاکستان کے لئے مل جل کر اپنی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین