عمران خان صادق اور امین، جہانگیر ترین نا اہل قرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے لیے دائر درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا، چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عدالت کے کمرہ نمبر ایک میں فیصلہ سناتے ہوئے سربراہ تحریک انصاف کی نا اہلی کے لئے مسلم لیگ نواز کے رہنماء حنیف عباسی کی درخواست مسترد کر دی، جبکہ جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل62ون ایف کے تحت تا حیات نا اہل قرار دے دیا۔80صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ سماعت کے دوران جہانگیر ترین نے جان بوجھ کر اثاثے چھپائے، جہانگیر ترین نے ان سائیڈ ٹریڈنگ کی لندن میں ہائڈ ہاوس چھپایا ، جہانگیر ترین نے اپنے بیان میں مشکوک ٹرمز استعمال کیں اور عدالت کو صحیح جوابات نہ دے سکے جس کی بنا پر انہیں ایماندار قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اس سے قبل عمران خان نااہلی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے حنیف عباسی کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بنی گالہ کی جائیداد عمران خان کو جمائمہ خان سے تحفہ کے طور پر ملی تھی، بظاہر اس میں کوئی بد دیانتی ظاہر نہیں ہوئی ۔عددالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عمران خان پر غیرملکی فنڈنگ کا الزام لگایا گیا تاہم درخواست گزار غیر ملکی فنڈنگ پر متاثرہ فریق نہیں،تاہم الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ طور پر پی ٹی آئی کے اکاوٴنٹس کی گذشتہ پانچ سال تک کی چھان بین کرسکتا ہے۔

فیصلہ سنانے سے قبل چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایک صفحے میں غلطی تھی جس کے باعث ڈھائی سو صفحات دوبارہ پڑھنے پڑے جس کے باعث فیصلہ سنانے میں تاخیر پر معذرت خواہ ہوں۔انہوں نے فریقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے کو تحمل سے سنا جائے۔واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے گزشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کی تھیں، انہوں نے عدالت سے اپنی درخواستوں میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور جہانگیر ترین نے اپنے اثاثے چھپائے اس لیے نااہل قرار دیا جائے _ حنیف عباسی نے درخواستوں میں موٴقف اختیار کیا کہ عمران خان نے نیازی سروسز کمپنی ظاہر نہیں کی جو آف شور بنائی گئی، اسی طرح بنی گالہ اراضی خریداری کے بارے میں بھی درست معلومات فراہم نہ کر کے الیکشن کمیشن کے سامنے غلط بیانی کے مرتکب ہوئے،

حنیف عباسی کی درخواست کے مطابق عمران خان نے غیر ملکی ممنوعہ فنڈز حاصل نہ کرنے کا جھوٹا بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کرایا ۔ جبکہ جہانگیر ترین کی نااہلی کے لیے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لندن میں جائیداد اور زرعی زمین سے آمدن کے بارے میں الیکشن کمیشن سے جھوٹ بولا گیا جبکہ انکم ٹیکس گوشواروں میں مختلف آمدنی ظاہر کر کے جہانگیر ترین صادق اور امین نہیں رہے ۔

عمران خان اور جہانگیر ترین نا اہلی درخواستیں دو نومبر 2016 کو دائر ہوئیں، ایک سال اور سات روز کی مدت میں دونوں مقدمات کی سماعت مکمل ہوئی اور فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔عدالت میں یہ کیس چار سو پانچ دن تک زیر سماعت رہا جس کی کل پچاس سماعتیں ہوئیں ، وکلاء نے سو گھنٹوں سے زائد دلائل دیئے ، جبکہ عدالت میں سات ہزار صفحات پر مشتمل مواد پیش کیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی اور نواز لیگ کے کارکنان ایک دوسرے کے آمنے سامنے رہے اور شدید نعرہ بازی کی گئی۔جبکہ دوسری جانب سربراہ تحریک انصاف عمران خان نے اپنی نا اہلی کی درخواست مسترد کئے جانے پر خوشی جبکہ جہانگیر ترین کی نا اہلی پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

جہانگیر ترین نے اپنی نا اہلی کے معاملے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں،عدالت نے انہیں صرف ٹرسٹ ڈیڈ کی تشریح کی بنیاد پر نا اہل قرار دیا ہے۔تحریک انصاف کی پارٹی قیادت نے جہانگیر ترین کی نا اہلی کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کرنے پر غور شروع کر دیا ہے جس کے لئے عمران خان کی جانب سے کور گروپ کا ہنگامی اجلاس کل دوپہر اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین