سانحہ ماڈل ٹاون، پنجاب حکومت کو بڑا دھچکا

لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ شائع کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل مسترد کر دی،30دن کے اندر اندر رپورٹ شائع کرنے کا حکم جاری ۔جسٹس عابد عزیز کی سربراہی میںلاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاون کی انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ رپورٹ کی کاپی سانحہ کے متاثرین اور پاکستان عوامی تحریک کو فراہم کی جائے۔ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نے اکیس ستمبر کو سانحہ ماڈل ٹاون رپورٹ جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہوم سیکرٹری پنجاب کو رپورٹ کی کاپیاں متاثرین کو فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ مگرپنجاب حکومت نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے کی بجائے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی۔پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت اور حکومتی وکلاءکے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے چوببیس نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا جسے آج سنایا گیا کیا گیا۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے فیصلہ آتے ہی قانونی ٹیم اور پارٹی قیادت سے اعلی سطحی رابطے شروع کر دیئے جس کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا۔واضح رہے کہ رپورٹ پبلک ہونے کے نتیجے میں سب سے زیادہ خطرہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کو ہو سکتا ہے جو پہلے دن سے ہی رپورٹ شائع کرنے کے خلاف ہیں۔دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ظاہر القادری نے فیصلے کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہداءکے ورثاءسے انصاف کا وعدہ کیا تھا ، عدالتی فیصلے کے بعد قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے، انہوںنے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت عدالتی احکامات کی روشنی میں رپورٹ فوری پبلک کرے بصورت دیگر سخت رد عمل دیا جائے گا

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین