باغی کی واپسی

اسلام آباد (جاوید حسین ) سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی پر چھ برس کے بعد مسلم لیگ (ن) میں واپسی کے دروازے کھل گئے ، سابق وزیراعظم نوازشریف کی دعوت پر جاوید ہاشمی نے پنجاب ہاوس اسلام آباد میں اہم ملاقات کی۔ملاقات میں مریم نواز،پرویز رشید، احسن اقبال، سعد رفیق اورمشاہداللہ خان شریک ہوئے۔ نواز شریف نے اپنے پرانے ساتھی کو دیکھتے ہی گلے لگایا اور گرم جوشی سے استقبال کیا۔ان تاریخی لمحات میں مریم نواز نے جاوید ہاشمی کو ویلکم بیک ٹو ہوم کہتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ ملاقات کے دوراندونوں رہنماوں میں گلے شکوے بھی ہوئے اور چھ برس قبل پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کے محرکات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔مشاہداللہ خان نے ملاقات کی تفصیل سے متعلق بتاتے ہوئے کہ جاوید ہاشمی اور نواز شریف ملاقات کے دوران بہت سی باتیں کہی اور سنی گئی، جاوید ہاشمی ن لیگ سے کبھی الگ ہی نہیں ہوئے تھے،تاہم ان کی پارٹی میں شمولیت سے متعلق ابھی کوئی با ضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ آئین کی حکمرانی اور سویلین بالادستی کیلئے جاویدہاشمی کی جدوجہد کا برملا اعتراف کیا گیا ہے۔ ملاقات شرمندہ ہونے اور شرمندہ کرانے کے لئے نہیں تھی،دونوں قائدین نے آئین کی حکمرانی کے لیے جدوجہد آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔واضح رہے کہ چھ برس قبل جاوید ہاشمی نے دسمبر 2011میں اپنی پارٹی کو خیر آباد کہ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

تاہم پی ٹی آئی کے 2014میں تاریخی دھرنے کے دوران باغی نے پھر بغاوت کر دی اور عمران خان سے اختلاف کے باعث انہیں تحریک انصاف سے الگ ہونا پڑا۔

جاوید ہاشمی کی نواز شریف سے ملاقات پر ملتان کے لیگی رہنماوں سمیت پارٹی کے چند سینئر رہنماوں نے بھرپور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جاوید ہاشمی نے چھ برس قبل تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کے کے پارٹی کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔اپنے موقف میں سینئر رہنماوں کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی اس وقت ن لیگ نہ چھوڑتے تو تحریک انصاف کو سیاسی طور پر مضبوط ہونے میں مدد نہ ملتی

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین