فوج پر تنقید ، عمران خان دفاع میں آ گئے

سربراہ تحریک انصاف عمران خان عسکری ادارے پر جاری تنقید کے جواب میں خود سامنے آ گئے ،اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ختم کرانے کے لئے فوج سمجھوتا نہ کراتی تو پورے ملک میں انتشارپیدا ہوجاتا، فیض آباد میں کارروائی پرملک بھر میں ری ایکشن سامنے آیا تو پریشان ہو گیا،حکومت مفلوج ہوچکی تھی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا چکا تھا، ایسے عالم میں کارکنوں کی جانب سے احتجاج میں شامل ہونے کے لئے سخت دباو کا سامنا رہا، مگر کوشش کر کے کارکنوں کو روکے رکھا ۔عمران خان نے اس سارے معاملے پر پاک فوج کی جانب سے بروقت مثبت کردار ادا کئے جانے کو قابل تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج سے متعلق جو کہا جا رہا ہے وہ درست نہیں، عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بحرانی صورت حال سے دوچار تھا خدشہ تھا کہ ملک خانہ جنگی کی طرف نہ چلا جائے، ایسے نازک مرحلے پر عسکری ادارے نے فیض آباد دھرنے کا مسئلہ حل کروایا تو دو نفل شکرانے کے ادا کئے۔عمران خان نے کہا کہ لال مسجد آپریشن کے وقت بھی طاقت کے استعمال کی مخالفت کی تھی مگر اس وقت کی حکومت نے اسے نظر انداز کیا جس کے بعد دہشتگردی میں اضافہ ہوا۔ موجودہ حکومت کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہی نہیں تھا، کیونکہ حکومت صرف ایک نا اہل شخص کو بچانے کے لئے ہاتھ پاوں مارنے میں مصرف ہے۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف فیض آباد میں جس طرح کی زبان استعمال کی گئی اس پرکوئی تبصرہ نہیں کرونگا،معاملہ ختم ہوگیاقوم کوفوج کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔

 

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین