عمران خان اور شیخ رشید نے طاہرالقادری کیلئے مصیبت کھڑی کر دی

اسلام آباد (عباس شبیر ) عمران خان اور شیخ رشید کی جانب سے مال روڈ لاہور جلسے میں پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کے معاملے پر اتحادی ناراض ہو گئے, صورت حال اس قدر کشیدہ ہوگئی کہ متحدہ ایکشن کمیٹی کا اجلاس بھی طلب نہ ہوسکا, طاہرالقادری نے 17 جنوری کو جلسے کے اختتام پر اعلان کیا تھا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کے لئے ایکشن کمیٹی کا اجلاس دو دن بعد ہوگا, لیکن چار دن گزر جانے کے باوجود اجلاس طلب ہوسکا نہ اعلان کے مطابق عمران خان کی دوبارہ طاہرلقادری سے ملاقات ہوسکی!

ذرائع کے مطابق طاہرالقادری کو عمران خان اور شیخ رشید کی تقاریر پر پیپلز پارٹی کے شدید رد عمل کا سامنا ہے.اجلاس بلانے کی صورت میں پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان بد مزگی بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں اپوزیشن کا اتحاد ختم ہو سکتا ہے, تاہم صورت حال کے پیش نظر طاہرالقادری دو اہم اتحادیوں کو دوبارہ کسی ایک نقطے پر لانے کیلئے متحرک ہو گئے ہیں,پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان ممکنہ تکرار کے خدشات ختم ہونے کے بعد ایکشن کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا.

پاکستان پیپلز پارٹی نے طاہرالقادری کی تحریک میں شرکت کیلئے جمہوری اور آئینی حدود کے اندر رہنے کی شرط عائد کی تھی, مگر عمران خان اور شیخ رشید کی جانب سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والی تقاریر کو اتحاد کے بنیادی اصولوں کی خلاف قراردیا ہے,قریبی ذرائع کے مطابق طاہرالقادری خود بھی عمران خان اور شیخ رشید کے رویے کی سے سخت پریشان ہیں.دوسری جانب عمران خان اور شیخ رشید پارلیمنٹ سے متعلق اپنے بیان پر پوری طرح قائم ہیں اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ کرنے کے موڈ میں نہیں, ایسی صورت حال میں متحدہ اپوزیشن کا مستقبل کیا ہو گا یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا.

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین