آرمی چیف کا دھرنے میں کردار !حقیقت سامنے آ گئی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سینیٹ کی ہول کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تو ن لیگی سینیٹر مشاہاللہ خان نے فیض آباد دھرنہ کا ذکر چھیڑ دیا۔جنرل باجوہ سے سوال کرتے ہوئے مشاہد اللہ خان نے پوچھا کہ فیض آباد دھرنہ میں پاک فوج کا کیاکردار تھا،مظاہرین کو کھانا پانی کہاں سے پہنچ رہا تھا اور فوج ثالثی بن کر سامنے کیسے آئی ۔آرمی چیف نے اطمینان سے سوال سنا اور جواب دیا کہ فیض آباد دھرنے سے آرمی کا کچھ لینا دینا نہیں،دھرنہ سے متعلق معاملات میں حکومت نے خود کوتاہی برتی جس کے باعث صورت حال سنگین ہوئی۔آرمی چیف نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ یا پاک فوج بطور ادارہ دھرنے میں ملوث تھے تو بطور آرمی چیف اپنے عہدے سے مستعفی ہو جاوں گا۔اس موقع پر جنرل باجوہ نے کہا کہ ثالثی کا کردار معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لئے ادا کیا۔یہ بات درست یہ ہے کہ فیض آباد دھرنے کے معاہدے پر کسی فوجی کا نام نہیں ہونا چاہئے تھا۔اس وقت ملک سے باہر تھا اس لئے ایسا ہوا۔بعض اوقات معاملات کو حل کرنے کے لئے ’ آوٹ آف دی وے ‘ جانا پڑتا ہے۔آرمی چیف نے واضح کیا کہ سیاسی معاملات میں پاک فوج نے مداخلت نہ کرنے کا عزم کیا ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین