سپریم کورٹ کا پنجاب حکومت کو گرین سگنل !

سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور اورینج ٹرین منصوبے میں 11 تاریخی مقامات پر کام روکے جانے کا ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت کو گرین سگنل دے دیا. جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید, جسٹس مقبول باقر ,جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیر عالم پر مشتمل پانچ رکنی بنچ نے 8 ماہ بعد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب حکومت کو مشروط طور پر اورینج لائن منصوبہ مکمل کرنے کی اجازت دے دی! عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت تاریخی ورثوں کو محفوظ بناکر منصوبہ مکمل کرنے کے لئے اقدامات کرے,ٹرین کے راستے میں آنےوالے تاریخی ورثوں کو محفوظ بنانے اور آرائش نو کرنے کی ذمہ داری بھی پنجاب حکومت پر ہو گی.

عدالت نے تاریخی ورثوں کی مرمت اور آرائش کے لئے 100 ملین روپے کا فنڈ مختص کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ فیصلے پر عمل در آمد یقینی بنانے کے لئے ماہرین کی خصوصی کمیٹی قائم کی جائے جو ایک سال تک کام جاری رکھے گی! عدالت کی جانب سے ثقافتی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو پابند بنایا گیا ہے! سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کر کے پنجاب حکومت کی تمام اپیلیں منظور کر لیں! فیصلہ1 کے مقابلے میں 4 کی اکثریت سے کیا گیا ہے جس میں جسٹس مقبول باقر کا اختلافی نوٹ شامل ہے! سپریم کورٹ کی جانب سے جن تاریخی ورثوں کو محفوظ بنانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ان میں شالیمار گارڈن،چوبرجی ،بدھو کا آوا، باباموج دریا بخاری ،سینٹ اینڈریوچرچ،، جی پی او، سپریم کورٹ رجسٹری، لکشمی بلڈنگ ، مقبرا زیبنسا, شاہ چن چراغ، اور گلابی باغ شامل ہیں! واضح رہے کہ یہ فیصلہ 17 اپریل کو محفوظ کیا گیا تھا جسے 8 ماہ بعد سنایا گیا ہے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین